Langri Larki
11 Episodesڈرامہ
امان گھر پہنچا بچی کا کمرے دیکھا تو پھوٹ پھوٹ کر رو دیا۔ جی بھر کر رو لیا تو سوچ لیا کہ بیوی پر کچھ ظاہر نہیں کروں گا اور بیٹی کی خوشی مناؤں گا۔ اس نے والدین کا چالیسواں ایک ہفتہ پہلے ہی کر دیا تھا، جو آج کل رواج چل نکلا ہے۔ لوگوں نے خوب واہ واہ کی تھی۔ اس نے سوچا کہ خدا نے شاید اسی لیے انہیں جلدی بلالیا، اگر وہ زندہ ہوتے تو یہ صدمہ برداشت نہ کر سکتے تھے اور شاید وہ کسی اور کی بچی بھی پالنے نے دیتے کہ حرام کی نہ ہو۔
مگر اس میں بچی کا کیا قصور جواس کے والدین اسے چھوڑ کر چلے گئے۔
ابرار بیوی کے پاس بیٹھا آہستہ آہستہ باتیں کر رہا تھا کہ کیسے خدا نے اس کی مدد کی، کتنی آسانی سے تمام مسئلہ حل ہو گیا۔ آیا بھی ٹائم پر پہنچ گئی۔ اسی رات دو بجے آیا کو بچی پیدا ہوئی جسے اس نے امان کی بچی سے بدل دیا اور امان کو کہا گیا کہ بچی فوت ہو گئی ہے۔ اب وہ کیسے آیا کی بچی کو نازوں سے پالے گا۔ اچھے اسکولوں میں پڑھائے گا اور اس کی اپنی بچی کیسے غربت میں پلے گی۔ جب وہ بڑی ہوگی تو ہم اپنے بیٹے شاکر کی شادی اس سے کر دیں گے اور اس کی ساری جائیداد کے وارث بن جائیں گے۔ ہم تو اس قابل نہیں ہیں کہ شاکر کو اعلی تعلیم دلا سکیں۔ وہ واجبی سی تعلیم حاصل کرے گا اور ہمارے زور دینے پر آیا کی بیٹی سے شادی کرے گا۔ اس کے بعد ہم آیا پر الزام لگا دیں گے کہ اس نے دولت کے لالچ میں بچی بدل دی تا کہ اس کی بچی بڑے گھر میں پہلے۔ یہ خود بھی ادھر رہی تاکہ اپنی بچی سے ملتی رہے۔ امان کو اس کے خلاف کر دیں گے کہ آیا کچھ کہے اور بولے تو وہ نہ مانے۔
پھر وہ دونوں ہنسنے لگے۔ ابرار بولا
مجھے ڈاکٹر نے بتایا ہے کہ امان کی بچی کی ایک ٹانگ میں نقص ہے، وہ پولیو والی ہے
وہ پھر بولا
"ہم نے تو بھائی پر احسان کیا ہے ورنہ وہ دونوں اسے دیکھ دیکھ کر کڑھتے رہتے
ابرار اور اس کی بیوی نے نوٹ کیا کہ آیا پولیو والی بچی سے بھی بہت خوش ہے شاید یہ سوچتی ہوگی کہ اس کی اپنی بچی شہزادیوں کی طرح پل رہی ہے۔ ابرار آیا کے پاس آیا اور اسے دھمکایا
ابھی صرف اسی کی ماں بنی رہو اور اپنی بیٹی کے لیے کوئی جزبات دکھانے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس کی طرف کبھی آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھنا۔
آیا نے ڈری ہوئی آواز میں کہا
میری ساری محبت صرف اس کے لیے وقف ہے“
پھر اس نے اپنی پولیو زدہ بچی کو اٹھایا اور اسے اپنی دونوں باہوں میں بھینچ لیا اور اپنی آنکھیں بند کر لیں۔
ابرار سر ہلاتا ہوا باہر نکل گیا۔
امان کی بیوی جب گھر واپس آئی تو بھابھی نے طعنے دے دے کر اس کی برا حال کر دیا کہ میں تمہیں خون نہ دیتی تو تمہارا بچنا مشکل تھا، تمہاری بیٹی ہے اور تمہارے پاس بیٹا نہیں ہے۔ دیکھو میرے پاس بیٹا ہے اور تمہارا ڈاکٹر نے کہہ دیا ہے کہ اور بچہ نہیں ہو سکتا، میں اس خاندان کی نسل کو آگے بڑھا رہی ہوں۔
وہ یہ باتیں سن کر بہت دکھی ہوتی اور رو رو کر خدا سے دعا کرتی کہ اے اللہ! مجھے تجھ سے اچھی امید ہے۔ میں نا امیدی کر کے کفر نہیں کر سکتی۔ تو سب کچھ ممکن بنا سکتا ہے۔ تو دعاؤں کو قبول کرنے والا ہے۔ اسے بھی اب بیٹے کا شوق پیدا ہو گیا تھا مگر امان کو بیٹی پسند تھی اور اسے بیٹے کا کوئی ارمان نہیں تھا۔ اصل میں جب اس کی بیوی بیٹی کی پیدائش کے وقت خطرے میں تھی تو اس نے اسی وقت فیصلہ کرلیا تھا کہ وہ بیٹے کے بغیر تو رہ سکتا ہے مگر بیوی کے بغیر نہیں۔
بھابھی اب اور دھڑلے سے آتی اور ٹانگیں پسار کر بیٹھ جاتی۔ چائے کھانے کا آرڈر ایسے دیتی جیسے اس کے باپ کا گھر ہو۔ امان کی بیوی کو اس کے حق جتانے پر کوئی اعتراض نہ تھا۔ وہ اس کا بھی بھابھی ہونے کے ناطے حق سمجھتی تھی اور نوکروں کو اس کی فرمائش پوری کرنے کا کہتی تھی ۔ بھابھی کو اس سے اور بھی شہ ملتی تھی اور وہ ان کے گھریلو معاملات میں پوری طرح ان تھی۔ امان کی بیوی بہت خدا ترس اور رحمدل واقع ہوئی تھی۔ وہ ابرار کے بیٹے شاکر سے بھی بہت پیار کرتی تھی۔ وہ بھی بہت پیارا بچہ تھا اور ماں کے پاس کم اور چاچی کے پاس زیادہ رہتا تھا۔ وہ اس کی باتیں توجہ سے سنتا اور ان پر عمل کرتا تھا۔ اسے بھی اس کے ساتھ کھیل کر اور اسے پڑھا کر زیادہ مزا آتا تھا۔ اس کی ماں اپنی سیاستوں میں مگن تھی اور خوش تھی کہ اس کا فائدہ ہو رہا ہے۔ امان اور اس کی بیوی شاکر کو کپڑے، جوتے اور کھلونے بھی لے دیتے۔ وہ بہت خوش ہوتا۔ اس کا شوق دیکھتے ہوئے، انہوں نے اسے شہر کے سب سے اچھے اسکول میں داخلہ بھی دلوادیا اور اس کے تمام اخراجات بھی اٹھانے لگے۔ وہ بہت ذہین تھا اور لگن سے پڑھنے لگا۔ امان نے اپنی بیٹی کا نام رافعہ رکھا اور اسے پیار سے رافی کہنا شروع کر دیا۔ وہ بہت پیاری اور خوبصورت بچی تھی۔ ابرار اور اس کی بیوی بھی ماں باپ کی موجودگی میں اس سے جھوٹا پیار جتاتے مگر اکیلے میں اس سے بے پرواہ ہو جاتے۔ وہ چاہے روتی رہتی مگر اسے آنکھ اٹھا کر نہ دیکھتے۔
آج امان کی بیوی کو بھا بھی پر بہت غصہ آرہا تھا۔ جب رافی بیڈ سے گرنے لگی تو پاس موجود بھابھی نے سامنے دیکھتے ہوئے اسے نہ بچایا اور وہ نیچے گر گئی۔ اس نے بھابھی کو خوب سنائیں۔ آج وہ ماں بن گئی تھی اور ماں کی بیٹی بہت رو رہی تھی۔
پہلے تو بھابھی بہت حیران ہوئی مگر وہ اتنے غصے میں تھی کہ بھابھی دبک گئی۔ اسے اندازہ ہو گیا تھا کہ اب یہ معاف نہیں کرے گی۔ بھابھی نے دھمکی دی کہ میں امان کو بتا دوں گی کہ تم نے میرے ساتھ بد تمیزی کی ہے۔ مگر آج ماں شیرنی بن گئی تھی کیونکہ بیٹی کا رونا اس کے کانوں میں ابھی تک پہنچ رہا تھا۔ اس نے بھابھی کو صاف کہہ دیا کہ تم آج جو مرضی کر لو میرے غضب سے نہیں بچ سکتی۔ امان کی بیوی نے امان کو وہیں فون ملایا اور غصے سے اسے فوراً گھر آنے کا کہا۔ وہ اتنے عرصے سے ظلم برداشت کر رہی تھی، طعنے سہہ رہی تھی، تنگ آگئی تھی، اگر بیٹی نہ گرتی تو آج بھی نہ بولتی۔ امان بچی کے رونے کی آواز سن کر گھبرا گیا۔ اس نے ابرار کو فون ملایا۔ اس نے دیر سے فون اٹھایا کیونکہ اس وقت تک بھابھی پہچ کر اسے تمام صورتحال بتا رہی تھی۔ وہ کہہ رہی تھی
یہ اسی طرح شیر بنتی رہی تو جائیداد ملنی مشکل ہے۔ اس کی زبان بند کرنی پڑے گی
ابرار نے امان کا فون اٹھایا اور کہا
اس وقت تمہاری بھابھی کی طبیعت بہت خراب ہے، بعد میں بات کروں گا۔
امان کے کچھ کہنے سے پہلے ہی ابرار نے فون بند کر دیا اور بیوی کو کہا
تم بستر پر لیٹ جاؤ اور کمبل اوڑھ لو۔
امان بہت زیادہ گھبرا گیا اور بھاگا چلا آیا۔ وہ سیدھا ابرار کے گھر پہنچا کہ بھابھی کو کیا ہوا ہے۔ وہاں ڈرامہ پہلے سے رچا ہوا تھا۔ بھابھی خاموش بیٹھی اشک شوئی کر رہی تھی۔ اس کو دیکھتے ہی کہنے لگی
میں نے اسے ہمیشہ بیٹی کی طرح سمجھا۔ آج اس نے مجھے گھر سے دھکے دے کر نکالا۔ توبہ توبہ اس نے مجھ پر جھوٹے الزام لگائے۔ میں تیری بچی پر جان دیتی ہوں اور وہ مجھے اس سے دور رکھنا چاہتی ہے۔
اس نے امان کے کانوں میں پہلے ہی زہر گھول دیا اور وہ غصے سے بھرا گھر پہنچا اور بیوی سے پوچھا
تم نے میری ماں جیسی بھابھی سے زبان چلائی۔
وہ بولی
ہاں انہوں نے۔۔۔۔۔
اس نے اتنا ہی کہا تھا کہ امان نے مزید کچھ سنے بغیر اسے مارنا شروع کر دیا۔ آج پہلی بار اس نے بیوی پر ہاتھ اٹھایا تھا ورنہ اس سے پہلے صرف ڈانٹتا تھا۔ وہ ڈانٹ سن کر ہی ڈر جاتی تھی۔ آج وہ بری طرح مار کھا رہی تھی۔ ابرار اور اس کی بیوی کو امید تھی کہ امان گھر میں کیا کر رہا ہو گا۔ بھابھی نعیمہ نے ابرار سے کہا
چلو چل کر تماشہ دیکھتے ہیں۔
وہ لوگ امان کے گھر پہنچے تو دیکھا کہ امان اپنی بیوی کو بری طرح مار رہا ہے اور ساتھ ساتھ اسے کہہ رہا ہے
میری ماں جیسی بھابھی جس نے تم پر احسان کیا اور اپنا خون دیا، اسے تم نے گھر سے نکالا
اس کی بیوی مارکھا کھا کر بولنے کی سکت کھو بیٹھی تھی۔ اسے بچانے والا بھی کوئی نہ تھا۔ ابرار کی بیوی نے آہستہ سے ابرار سے کہا
اسے بچاؤ مرگئی تو بڑا مسئلہ ہو جائے گا۔
وہ دونوں اسے بچانے بیچ میں کود گئے۔ ابرار کی بیوی نے کہا
امان تمہیں میری قسم ہے کہ تم اسے اب غصے میں ہاتھ بھی لگاؤ۔
امان بول اٹھا
دیکھا ان کو نکالا اور یہی بچانے آگئے ہیں۔ تم ابھی اس گھر سے نکل جاؤ۔"
امان کی بیوی نے شدید غصے سے اسے دیکھا اور چُپ کر کے باہر چل دی۔ اس نے راستے میں روتی ہوئی رافی کو اٹھایا تو امان نے بھاگ کر اس کی گود سے چھین لی اور چیخ کر کہا
یہ میری بیٹی ہے تمہاری نہیں ہے۔
اس کی بیوی نے نہایت زخمی آنکھوں سے اپنی بیٹی اور اس کو دیکھا اور روتی ہوئی باہر چل دی۔ اس کے میکہ والے اسی شہر میں رہتے تھے۔ اس نے باہر جا کر ایک ٹیکسی روکی اور کوئی بات کیے بنا چلی گئی۔

Reader Comments
No comments yet. Be the first to share your thoughts!
Log in to leave a comment.