Langri Larki
11 Episodesاصلی بیٹی
اچانک سے رافعہ کی ماں نے اسے بتایا کہ اس کی خالہ پورے ایک ماہ کے لیے پاکستان آ رہی ہیں ان کے دونوں بچے بھی ساتھ ہوں گے تو رافعہ بہت خوش ہوئی اسے خالہ بہت پیار کرتی تھیں اور اکثر وڈیو کال پر ان سے اور ان کے بچوں سے بات چیت ہوتی رہتی تھی۔ اس کے بچوں سے اس کی دوستی بھی خوب تھی۔ بیٹی اس کی ہم عمر تھی اور ایک سال چھوٹا اس کا بھائی تھا۔
دس سال کے بعد خالہ پاکستان آ رہی تھی۔ اور اس سے پوچھ رہی تھی کہ تمہارے لیے کیا کیا گفٹس لاؤں۔ رافعہ نے ایک لمبی لسٹ خالہ کو بتا دی تھی، ماں نے ڈانٹا بھی مگر خالہ نے بہن سے کہا،
باجی نہ کچھ نہیں، اتنے سالوں کے بعد آ رہی ہوں تو اتنے گفٹس تو اس کے بنتے ہیں۔
رافعہ کی ماں امان کو بتا رہی تھی کہ اس کی بہن ان کے گھر دونوں بچوں کے رشتے کے لیے آ رہی ہیں۔ وہ کراس میرج کرنا چاہتی ہیں۔
امان نے بیوی کو جواب دیا
انکا بیٹا ہماری رافی سے ایک سال چھوٹا ہے اور ہمارے بیٹے سے ان کی بیٹی ایک سال بڑی ہے۔ کیا بچوں کو اعتراض نہیں ہو گا۔
مسز امان نے کہا،
ان کے والد نے بچوں کو اچھے طریقے سے سمجھایا تو وہ مان گئے اور آپ سے بھی بات کرنے کا کہا۔
امان نے کہا،
ہمارے بچوں کا تو تمہیں علم ہے۔ جازب نمرہ سے شادی کرنا چاہتا ہے۔
تو اسی وقت جاذب کمرے میں داخل ہوا پیچھے رافعہ بھی تھی۔ جازب بہت غصے میں لگ رہا تھا۔ رافعہ اس سے پوچھ رہی تھی تو وہ کہہ رہا تھا کہ موم ڈیڈ کے سامنے بتاؤں گا۔
امان نے تحمل سے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر پوچھا
کیا بات ہے۔
تو وہ غصے میں بولا،
میں نمرہ سے کسی صورت شادی نہیں کروں گا، باقی جہاں مرضی آپ میری شادی کروا دیں۔ میں نے لان میں کھلنے والی کھڑکی سے، شاکر اوراس کو اکھٹے چائے پیتے، رومانس کرتے دیکھا ہے۔
رافعہ کے دماغ میں خالہ کے بیٹے کا رشتہ گھوم گیا، جس بہانے وہ یورپ جا سکے گی۔ فوراً رافعہ نے بھی تائید کی کہ اس نے بھی ان کی باتیں سنی ہیں دونوں ایک دوسرے سے پیار کرتے ہیں۔
امان خوشی سے بولا،
تو اس میں حرج کیا ہے۔ دونوں کی شادی کروا دیتے ہیں۔
رافعہ تمسخر اڑاتے ہوئے بولی،
یس ڈیڈ دونوں کا لیول بھی ملتا ہے شاکر اسے بیاہ کر پانچ مرلے کے پرانے بوسیدہ گھر کے جائے گا۔ نمرہ سرونٹ کوارٹر سے ترقی کر کے شاکر کے گھر خوشی سے شفٹ ہو جائے گی۔ توبہ میری جیسی تو وہاں سانس بھی نہ لے سکے۔
ماں نے رافعہ کو ٹوکا
بری بات بیٹا ایسے کسی کا مزاق نہیں اڑاتے۔ غرور کا سر ہمیشہ نیچے ہوتا ہے۔
امان نے بھی کہا،
ایسے کسی کا مزاق نہیں اڑاتے۔ وہ خود سے وہاں پیدا نہیں ہوئے۔ ہم میں سے بھی کوئی قسمت سے وہاں جا سکتا ہے وقت اور حالات کا کچھ پتا نہیں ہوتا۔
نمرہ مائنڈ کرتے ہوئے بولی،
ڈیڈ آپ لوگ ہمیشہ نمرہ کی فیور کرتے رہتے ہیں۔ میں بھلا وہاں کیوں جاؤں گی میں امان کی بیٹی ہوں نمرہ کی طرح چوکیدار کی نہیں۔
یہ کہہ کر وہ غصے سے کمرے سے چلی گئی۔
رافعہ نے تائی نعیمہ کو بتا دیا تھا کہ جازب نمرہ سے شادی کرنا چاہتا ہے تب سے ابرار اور نعیمہ سخت الجھن اور پریشانی کا شکار تھے کہ جازب تو نمرہ کا بھائی لگتا ہے یہ کیا غضب ہونے جا رہا ہے۔ کچھ عمرہ کرتے ہوئے ان کے دل میں خوف خدا آ گیا تھا۔ وہ بہت روئے۔ انہوں نے فیصلہ کر لیا کہ جو بھی ہو۔ وہ اب اس شادی کو روکیں گے اور سچائی بتا دیں گے۔ اس کے بعد وہ بھائی کو کھو دیں گے، یہی ان کی سزا ہے، ایک ایک کر کے بھائی کے بھابھی کے احسانات یاد آنے لگے۔ کیسے شاکر کی تربیت کی، اس کو اعلیٰ تعلیم دلائی، آج وہ ہیرا ہے۔ بھائی بھابھی کو فری ہینڈ دیا خود سازشوں میں لگے رہے پھر چھوٹے کی خود تربیت کی تو وہ ان کے آگے زبان چلاتا ہے، ہیرا پھیری کرتا ہے۔
رافعہ کی خالہ کے آنے کی بہت سی تیاریاں کی گئیں۔ ان کے روم سیٹ کیے گئے۔
نمرہ نے سب انتظام کیا۔ بہت سے لزیز کھانے پکائے۔ شاکر نے بھی اس کی بہت مدد کی۔
شاکر اور رافعہ ان کو ائیر پورٹ لینے گئے۔
رافعہ سوچنے لگی وہ کتنی بےوقوف تھی، جو شاکر سے شادی کرنے چلی تھی۔ اس کے پاس کیا ہے میرے باپ کا دیا ہوا سب کچھ۔
شاکر کے ساتھ فرنٹ سیٹ پر بیٹھی وہ یہی سوچ رہی تھی۔ شاکر سوچ رہا تھا کاش کوئی معجزہ ہو جائے اور میری نمرہ کے ساتھ شادی ہو جائے اور رافعہ کو اس جیسا کوئی مل جائے۔ اسے ابھی خالہ کی آمد اور مقصد کا علم نہیں تھا۔
نمرہ جازب کے لیے ہاں تو کر بیٹھی تھی مگر دل اسکا بھی یہی دعائیں کر رہا تھا کہ کسی طرح شاکر اسے مل جائے۔ جازب کو وہ بچہ سمجھتی آئی تھی۔ اسے چھوٹے بھائی جیسا وہ لگتا تھا۔ اسے دوسرے روپ میں قبول کرنا اس کے لیے بہت مشکل تھا۔ دوسری طرف امان کے احسانات تھے۔
خالہ کے گھر آنے سے خوب رونق ہو گئی تھی۔ خالہ نے کھانوں کی جی کھول کر تعریف کی اور نمرہ کو نقد انعام دینا چاہا تو اس نے انکار کر دیا۔
رافعہ نخوت سے خالہ سے بولی،
"خالہ جی یہ ہماری غیرت والی نوکرانی ہے"
پھر وہ ہنستے ہوئے بولی،
"اس جیسے غریبوں کے پاس غیرت ہی تو ایک چیز ہوتی ہے۔"
شاکر کو سخت برا لگا۔ نمرہ آنکھوں میں آنسو لیے تیزی سے کچن میں چلی گئی۔
شاکر پیچھے ہی گیا اور بولا،
"نمرہ پلیز رو مت میں تمہیں روتا نہیں دیکھ سکتا۔"
نمرہ غمزدہ لہجے میں بولی،
"شاکر ہم کتنے بےبس ہیں نا۔ کاش ہم جاہل ہی رہتے تو اس طرح ہمیں کسی کے احسانات کا بوجھ تو نہ اٹھانا پڑتا۔"
شاکر نے بھی اپنے آنسو صاف کرتا ہوئے کہا،
"کھبی مجھے اپنے چھوٹے بھائی پر رشک آتا ہے اس پر کسی کا احسان نہیں ہے اور اس نے اپنی مرضی سے شادی کر لی۔ اپنی مرضی سے جیتا ہے۔"
اتنے میں رافعہ کچن میں آئی اور غصے سے بولی،
"اگر آپ دونوں کا رومانس ختم ہو گیا ہو تو چائے بنا لیں خالہ چائے پیں گی۔"
شاکر اور نمرہ کو علم نہ تھا کہ خالہ رشتے کرنے آئی ہیں اور رافعہ اور جازب نے ہاں کر دی ہے۔
جب خالہ نے امان اور اس کی بیوی سے بات کی تو وہ خوشی سے مان گئے مگر انہوں نے کہا کہ اس بات کا کسی کو پتا نہ چلے۔
نعیمہ کا دل گھبرا گیا اس نے ابرار سے کہا،
"فوراً پاکستان واپس چلیں ایسا نہ ہو کہ کہیں وہ لوگ جازب اور نمرہ کا نکاح کروا دیں اور غضب ہو جائے۔"
خالہ کے گھر آنے سے رافعہ بہت خوش تھی۔ اس کا بیٹا اسے بہت پسند آیا تھا۔ دونوں میں خوب دوستی ہو گئی تھی۔ جازب کی بھی خالہ کی بیٹی سے دوستی ہو چکی تھی یہ بات نمرہ دیکھ کر اندر سے قدرے پُرسکون ہو رہی تھی کہ شاید اسے جازب سے شاکر سے وعدے کے مطابق شادی نہ کرنی پڑے۔ شاکر سے کیا گیا وعدہ توڑ بھی نہ سکتی تھی۔
نعیمہ اور ابرار کے اچانک آ جانے سے سب حیران تھے مگر انہوں نے عذر پیش کیا کہ ہم نے سوچا نہیں آپ لوگ ہمارے بغیر ہی نہ بچوں کے رشتے ناطے طے کر دیں۔
امان نے کہا،
"بھائی جان ایسا ممکن ہے کیا آپ تو میرے لیے محترم باپ جیسے ہیں اور بھابھی ماں جیسی"
دونوں میاں بیوی ایک دوسرے کو دیکھ کر شرمندہ ہونے لگے۔
تائی نے نمرہ کو بھی خوب پیار کیا تو شاکر کے ساتھ رافعہ بھی حیران تھی۔
نمرہ نے کچھ تاثر نہ دیا۔ شاکر کے دل میں خواہش جاگی کاش یہ ساس بہو والا پیار بن سکے۔ پھر زہن میں نمرہ سے کیا گیا وعدہ یاد آ گیا اور چچا امان کے احسانات۔
خالہ بہت عزت سے نعیمہ کو ملی۔ رافعہ تائی کو کچھ خاص لفٹ نہ دے رہی تھی۔ تائی نے جب اسے گفٹس کا شاپر پکڑایا تو اس نے لیتے ہوئے کہا،
"آپ ویسے ہی لے آئیں، مجھے کسی چیز کی ضرورت نہ تھی۔ خالہ میری فرمائش پر بہت سی چیزیں لے آئی ہیں۔ سب بہت مہنگی اور برانڈ کی ہیں۔"
تائی شرمندہ سی ہونے لگی۔ امان نے بیٹی کو سرزش کی تو وہ منہ بنا کر چل پڑی۔
رافعہ دل میں سوچنے لگی یہ پینڈو سی تائی اس کی ساس بنتی تو وہ کیا کرتی۔ خالہ کتنی گریس فل لیڈی ہیں اپنی فرینڈز کو بتاؤں گی تو وہ کتنی امپریس ہوں گی۔ میں کتنی بےوقوفی کرنے چلی تھی۔ خالہ کا بیٹا باہر ملک کا پڑھا لکھا جدید فیشن کا دلدادہ ہے، ہینڈسم ہے۔ پہلے تو وہ اسے چھوٹا سمجھ کر دھیان ہی نہ دیتی تھی۔ اب وہ اونچا لمبا مرد بن گیا ہے اس سے بڑا لگتا ہے۔
خالہ کے بیٹے کو اپنے سے ایک سال بڑی لڑکی سے شادی پر اعتراض تھا۔ جب رافعہ کی خالہ نے زور دیا۔ پھر پاکستان آیا تو نازک سی پتلے پتلے نقوش والی، فیشن ایبل، پڑھی لکھی لڑکی، اچھی لگی۔ اس کے بات چیت کا انداز، انگلش بولنے کا ایکسنٹ بھی اعلیٰ تھا۔ وہ اس سے شادی کرنے پر فوراً راضی ہو گیا۔
اس کی بہن کو بھی جازب بہت پسند آیا اور جازب کو بھی وہ ماڈرن سی لڑکی پسند آئی اور وہ شکر کرنے لگا کہ اس نے نمرہ سے شادی نہیں کر لی۔
شاکر رافعہ اور جازب دونوں کی خالہ کے بچوں سے دوستی کو دیکھ کر دل میں دعائیں کر رہا تھا کہ ان کی آپس میں شادیاں ہو جائیں۔
خالہ چند دنوں میں نمرہ سے بہت متاثر ہونے لگی۔ وہ سوچنے لگی کہ ایک ٹانگ کے نقص کے علاوہ اس لڑکی میں خوبیوں کی بھرمار ہے۔ کاش یہ ساری خوبیاں رافعہ میں بھی موجود ہوتیں۔ اس کو تو بس ہنسنا بولنا کھیل تماشے میں ہی دل لگتا ہے۔ کوئی زمہ داری تو اس نے کھبی پوری کی ہی نہیں۔ جبکہ ان کی بیٹی باہر ملک رہ کر بھی نمرہ کے ساتھ کچن میں ہیلپ کرتی۔ رافعہ اس کو بہت منع کرتی کہ یہ نوکرانی کے ساتھ تم کیوں دوستی رکھتی ہو۔ مجھے دیکھو یہ ادھر ہی پلی بڑھی ہے، پڑھی لکھی ہے مگر میں نے اسے کھبی اس سے فالتو بات نہیں کی۔ حالانکہ یہ پڑھی لکھی ہے۔ لیکن وہ اپنا مقام جانتی ہے۔ کچن میں کام کرنا اس کی زمہ داری ہے۔ میرے ڈیڈ نے ترس کھا کر اسے پڑھا لکھا دیا مگر ہم نے اسے کچن کے کام نہیں چھڑوانے کہ یہ اپنی اوقات نہ بھولے۔ حلانکہ آفس بھی جاتی ہے اچھی تنخواہ بھی لیتی ہے۔
خالہ کو رافعہ کے خیالات پسند نہ آئے تھے۔ وہ بہن کو سمجھتی تھی کہ اس کو گھرداری بھی سکھاتی۔
رافعہ کی ماں دل میں شرمندہ ہوتی اور کہتی
آپا آپ گھر لے جا کر سب سکھا دینا آجکل لڑکیاں نیٹ کی وجہ سے جلدی سیکھ لیتی ہیں۔
ماں چھپ کر رافعہ کو سمجھانے کی کوشش کرتی کہ خالہ کے بچوں کے ساتھ وقت گزارنے کے بجائے خالہ کے ساتھ وقت گزارا کرو، مگر وہ دھیان نہ دیتی ہر وقت موج مستی کے موڈ میں رہتی۔
خالہ نمرہ کی تعریفیں کرتی، کہتی
"یہ لڑکی کوہ نور سے کم نہیں ہے"
رافعہ کی ماں کہتی،
"آپا آپ صحیح کہتی ہیں۔"
امان صاحب نے نمرہ کو چھٹیاں دے دی تھیں کہ مہمان چلے جائیں گے تو پھر آفس آ جانا، ابھی ادھر گھر میں اس کی ضرورت ہے۔
رافعہ کہتی
"خالہ ڈیڈ نے نمرہ کو چھٹیاں دے دیں تاکہ وہ گھر کے کام کاج کر سکے۔ اب اسے اپنی اوقات پتا ہے کہ وہ اس گھر کی نوکرانی ہے۔"
نمرہ کو بچپن سے اس کی ایسی باتوں کی عادت تھی مگر کھبی اس کا دل بہت دکھتا۔ ماں باپ ٹوکتے رہتے مگر وہ سنی ان سنی کر دیتی۔
تائی نے جب اپنے گھر میں امان اور اس کی بیوی کو بلایا ساتھ شاکر کو بھی بلایا تاکہ وہ اپنے گناہوں کا اعتراف کر کے ضمیر کا بوجھ ہلکہ کر سکیں۔
ان کا چھوٹا بیٹا اور بہو بائیک پر گھومنے پھرنے گئے ہوئے تھے۔
خالہ اپنے روم میں سو رہی تھی اور ان کے بچے اور سب ملکر انگلش سیریز دیکھ رہے تھے۔
تائی نے روتے ہوئے پہلے امان اور پھر اس کی بیوی سے معافی مانگی تو وہ دونوں پریشان ہو گئے پھر ابرار نے روتے ہوئے کہا
"جو ہم بتانے جا رہے ہیں۔ تم اس کے بعد ہمارے منہ پر تھوکنا پسند نہ کرو گے مگر ہم ایک پاک جگہ سے ہو کر آئے ہیں اور وعدہ کیا ہے کہ اب اور ضمیر کا بوجھ نہیں اٹھا سکتے، نتائج چاہے کچھ بھی نکلیں۔"
جب تائی نے ساری بات بتانا شروع کی تو ساتھ ہی امان کے پاؤں پکڑ لیے۔
رافعہ کی ماں تو شروع دن سے ان کی چالاکیوں کو جانتی تھی مگر اس حد تک وہ گر سکتے ہیں یہ نہ سوچا تھا۔
امان سکتے کے سے عالم میں بولا،
"آپ دونوں سے مجھے یہ امید نہ تھی۔"
پھر وہ دھاڑیں مار کر رونے لگا۔ شاکر چچا سے نظریں نہیں ملا پا رہا تھا۔
ابرار نے اپنا جوتا اٹھا لیا اور امان سے روتے ہوئے بولا،
"میرے سر پر جوتے مارو۔"
اس کے پاؤں پکڑ لیے۔ امان نے غصے سے ان کو پرے دھکیلا۔ شاکر نے چچا کے کندھے پر ہاتھ رکھا تو امان نے شاکر کی طرف دیکھ کر بڑی بےبسی سے روتے ہوئے کہا،
"دیکھا شاکر یہ میرے بڑے بھائی اور بھابھی ہیں۔ جنہیں میں ماں باپ کا درجہ دیتا تھا اور اپنی معصوم بیوی کو ان کے مقابلے میں رتی بھر اہمیت نہ دیتا تھا۔"
شاکر روتے ہوئے بولا،
"چچا جان میں ان کی طرف سے معافی مانگتا ہوں۔ کاش یہ میرے والدین نہ ہوتے۔"
یہ سنکر تائی اور ابرار روتے ہوئے بولے،
"ہم بدقسمت اپنے بیٹے کی نظروں میں بھی گر چکے ہیں۔"
رافعہ کو اچانک خیال آیا کہ ساتھ کچھ کھانے پینے کی چیزیں لے آئے۔ وہ نمرہ کو آوازیں دینے لگی
"نمرہ کدھر مر گئی ہو۔"
خالہ نے کہا،
"بیٹا نمرہ شاکر کے گھر گئی ہے۔ تمہاری تائی اور تایا نے تمہارے والدین کو اپنے گھر بلایا تھا۔ کافی دیر ہو گئی ہے۔ نمرہ ان کو دیکھنے گئی ہے میرا جانا مناسب نہیں تھا تم جا کر زرا پتا کر آؤ سب خیریت ہے۔"
رافعہ شاکر کے گھر کی طرف چل پڑی جو بالکل سامنے تھا۔
وہ وہاں پہنچی تو نمرہ دروازے کے باہر کھڑی رو رہی تھی۔
جب رافعہ دروازے کے قریب پہنچی تو اسے جو آوازیں اندر سے سنائی دیں ان آوازوں نے اس کی دنیا بدل کر رکھ دی۔ وہ روتی چلاتی گھر کی طرف بھاگی اور خالہ خالہ کرتی ان کے پاس گر سی گئی۔ شور سنکر سب وہاں سے آ گئے۔
ادھر نمرہ نے رافعہ کی بابت سب کو بتا دیا
"رافعہ نے ساری باتیں سن لی ہیں اور میں نے بھی سن لی ہیں۔ مگر میں نہیں مانتی آپ کی بیٹی وہی ہے اور میں اپنے والدین کو نہیں چھوڑ سکتی۔ جیسے چل رہا ہے ایسے سب چلنے دیں اور رافعہ کو ہی اپنی بیٹی مانیں۔"
امان اور ان کی بیوی رافعہ کے لیے تڑپ کر گھر کی طرف بھاگے۔
ابرار کی ہمت نہ ہوئی مگر نعیمہ تائی پیچھے پریشان سی بھاگی آئی۔
رافعہ نے روتے ہوئے خالہ کو جب ساری سچائی بتائی تو خالہ بجائے اسے چپ کرانے میری بھانجی کہہ کر نمرہ کی طرف لپکیں اور اسے پیار کرنے لگیں۔
رافعہ حیرت سے خالہ کے بدلتے رویے کو دیکھنے لگی۔
امان نے نمرہ سے کہا،
"بےشک تم اب ہماری بیٹی ہو مگر ہم رافعہ کو نہیں چھوڑ سکتے نہ ہی اس کے بغیر رہ سکتے ہیں۔ لیکن اب تمہیں بھی یہاں سے جانے نہیں دیں گے۔"
خالہ غصے سے بولی،
"جو ہوا بہت برا ہوا مگر اب نمرہ اس گھر کی بیٹی اور ہماری ہونے والی بہو ہے۔"
نمرہ نے خالہ سے اپنا آپ چھڑوانے ہوئے کہا،
"معزرت کے ساتھ میں آپ کی بہو نہیں بن سکتی۔ رافعہ کے ساتھ ایسا ظلم نہ کریں۔"
تائی مجرم بنی سب سے معافیاں مانگنے لگی تو خالہ نے کہا،
"کوہ نور تو نمرہ ہے اب تو کسی صورت میں اس کوہ نور کے بدلے ایک آیا کی بیٹی جس میں سوائے ایک باپ کے نام کے، جو اب وہ بھی نہیں رہا کوئی خوبی نہیں ہے۔ ایسی اممیچور لڑکی کو میں مجبوراً بہو بنا رہی تھی کہ میری بھانجی ہے۔ ورنہ گھرسنبھالنے والی اس میں گھریلو لڑکی والی کوئی بات نہیں ہے۔"
امان تڑپ کر بولا،
"پلیز باجی ایسے نہ کہیں ہم اس کو بگاڑنے والے ہیں۔ اس کا کوئی قصور نہیں ہے۔"
شاکر آ کر ماں کو پکڑ کر لے گیا، جس کی رو رو کر بری حالت تھی۔
شاکر نے چھوٹے بھائی کو دوبارہ فون کیا اور ڈانٹا کہ جلدی گھر پہنچو پھر مختصر بات بتائی وہ بولا،
"میں ابھی نکل رہا ہوں۔"
امان نے چوکیدار کو بلا کر جب پوچھ گچھ کی تو وہ بہت حیران ہوا۔ اس نے کہا،
"اس سب میں میری بیوی کا قصور ہے میں اسے ابھی طلاق دے دوں گا۔ وہ اپنی بہن کے گھر گئی ہے۔ مجھے اگر علم ہوتا تو میں اسے ایسا ہرگز نہ کرنے دیتا۔"
نمرہ نے چوکیدار کو منت کر کے طلاق دینے سے منع کیا۔
امان کو چوکیدار پر بھروسہ آ گیا کیونکہ وہ بہت اچھا اور ایماندار ملازم تھا۔ وہ دیر تک ہچکیوں سے روتا رہا۔
نمرہ اسے تسلی دیتی رہی
"میں ہمیشہ آپ لوگوں کی بیٹی رہوں گی۔ میں امان صاحب کے گھر بیٹی کی حیثیت سے کھبی نہیں جاؤں گی۔ رافعہ ہی ان کی بیٹی ہے۔"
جازب ہ سب سنکر بہت حیران ہوا اور والدین سے بولا،
"ڈیڈ چوکیدار اور اس کی بیوی کو عبرتناک سزا ملی چاہیے تاکہ دوبارہ کوئی اس طرح کی حرکت نہ کر سکے۔"
امان نے روتے ہوئے کہا،
"بیٹا اپنے ایسا نہ چاہتے تو ان کی اتنی جرات کیا تھی۔"
جازب تائی کو سنانے لگا
"میں تو نمرہ سے شادی تک کرنے کو تیار تھا۔ کتنا بڑا گناہ مجھ سے سرزد ہو جاتا۔ جس کی تلافی بھی نہیں ہو سکتی تھی۔"
جازب تایا ابرار کے گھر گیا وہ لیٹا ہوا بری حالت میں تڑپ تڑپ کر رو رہا تھا۔
جازب نے جا کر اس کا گریبان پکڑ لیا تو ابرار نے کراہتے ہوئے بڑی مشکل سے اپنی جوتی اٹھائی اور اس کو دیتے ہوئے بولا،
"میرے سر پر مارو، میں اسی قابل ہوں۔"
پھر وہ اپنے سر پر بے تحاشا جوتے مارنے لگا۔
جازب کو ترس آ گیا اتنے میں ابرار کا چھوٹا بیٹا بھی آ گیا۔ ساتھ بہو بھی تھی۔
تائی امان کے گھر سے آ گئی اور چھوٹے بیٹے نے ماں باپ بہت ذلیل کیا
"فرشتے جیسے ہمارے چچا کو آپ لوگوں نے ان کی نیکیوں کا یہ صلہ دیا ہے۔ آستین کے سانپ تھے آپ لوگ۔"
وہ بیوی سے بولا،
"چلو اٹھو ہم اس گھر میں نہیں رہیں گے"
تائی اور ابرار روکتے رہے مگر وہ دونوں بائیک پر بیٹھ کر نکل گئے۔
امان کو شاکر روتے ہوئے کہہ رہا تھا
"میرے والدین کا گناہ بہت بڑا ہے۔ اگر نمرہ اور جازب کی شادی ہو جاتی تو"
اس کے بعد وہ ہچکیوں سے رونے لگا۔
شاکر نے کہا،
"چچا جان آپ جو کاروائی کرنا چاہتے ہیں ان کو سزا دلوانا چاہتے ہیں میں آپ کے ساتھ ہوں۔"
چچا نے اس کے کندھے پر سر رکھ کر کہا،
"بیٹا تم بتاؤ میں کیا کروں۔"
امان کے سسرال والے بھی آ چکے تھے اور ان کا کہنا تھا کہ چلو دونوں بچیاں آنکھوں کے سامنے پلی ہیں۔ شکر الحمدللہ کہ کوئی گناہ سرزد نہیں ہوا۔ ابھی بھی کچھ نہیں بگڑا ہے۔ قدرت خود ان کو سزا دے گی۔
امان کی بیوی بولی،
"ڈیڈ ویسے ان کو معاف کرنا نہیں چاہیے۔ ان سے قطع تعلق تو کر سکتے ہیں۔"
امان کے سسر نے بیٹی سے کہا،
"بیٹی معاف کرنا سب سے بڑی نیکی ہے۔ قدرت تو سزا ضرور دے گی اگر سچے دل سے معافی مانگ لیں تو اوپر والا بہت غفور الرحیم ہے۔"
خالہ منہ بنا کے بولی،
"میں اب اپنے بیٹے کا رشتہ ایک چوکیدار کی بیٹی سے نہیں کر سکتی۔
"نمرہ بےشک نقص والی ہے، لنگڑی لڑکی ہے مگر اس میں رافعہ سے زیادہ ہزاروں خوبیاں موجود ہیں۔"
رافعہ اندر بیٹھی سب سن رہی تھی اس نے حیرت سے سوچا اس پر جان چھڑکنے والی خالہ اب اسے بہو بنانے سے انکار کر رہی ہے اور وہ نمرہ لنگڑی لڑکی ہو کر سب کے دلوں پر راج کر رہی ہے۔ کیا اب اسے اس ٹھاٹھ باٹھ والے گھر سے جانا پڑے گا۔ کیا اس کی جگہ نمرہ لے کے گی۔ اس نے دل میں سوچا کہ اب وہ نمرہ جیسی بننے کی کوشش کرئے گی۔ اسے بہت غرور تھا اپنی دولت مند اولاد ہونے پر۔ کیسے ایک منٹ میں قدرت نے اس کو آسمان سے زمین پر پٹخ دیا ہے، وہ بہت توبہ کرنے لگی۔ اسی وقت اٹھی اور نمرہ کو ڈھونڈتی ہوئی گئی۔ جو چوکیدار کو سنبھال رہی تھی۔ وہ امان کے آگے قسمیں کھا رہا تھا کہ اسے اس بات کا بیوی نے علم نہ ہونے دیا ورنہ وہ اتنی جرات نہ کرنے دیتا۔
امان اسے کہہ رہا تھا
"مجھے تم پر تو بھروسہ ہے مگر میرے اپنوں نے میرا بھروسہ توڑا ہے"
وہ رونے لگا تو رافعہ سے برداشت نہ ہوا وہ دوڑتی آئی اور امان سے بولی،
"ڈیڈ میں اب بے شک آپ کی بیٹی نہیں رہی مگر میں اب نمرہ کو اس کا حق دوں گی۔ نمرہ میری جگہ رہے گی اور میں نمرہ کی جگہ۔"
امان کی بیوی نے تڑپ کر آ کر رافعہ سے کہا،
"میری بیٹی تو ہمیشہ ہماری بیٹی بن کر رہے گی۔ نمرہ بھی ساتھ رہے گی۔ ہم تیرے بغیر نہیں رہ سکتے نمرہ کے بغیر رہ سکتے ہیں۔"
امان نے بھی کہا مگر وہ نہ مانی اور چوکیدار سے بولی،
"ابا جی جیسے نمرہ آپ کو ابا جی پکارتی ہے۔ ویسے میں آپ کو پکاروں گی اور آپ کے ساتھ رہوں گی۔ روکھی سوکھی کھا کر خوش رہوں گی۔"
چوکیدار نے ہاتھ جوڑ کر کہا،
"چھوٹی بی بی جی ایسا سوچنا بھی نہ۔ ہم اتنی جرات نہیں کر سکتے۔ آپ امان صاحب کی ہی بیٹی رہو گی اور نمرہ بھی چلی جائے ہماری یہی سزا ہے۔ جیسا میری بیوی نے کیا۔ نمرہ اسے طلاق بھی نہیں دینے دے رہی۔ مگر اب میں اسے اس گھر میں برداشت نہیں کروں گا اور خود پولیس بلا کر اسے سزا دلاؤں گا۔"
امان نے کہا،
"نہیں ہم پولیس نہیں بلا سکتے کیونکہ اس کام میں میرے اپنے شامل"
کہتے کہتے ہچکیوں سے رونے لگا۔
چوکیدار کی بیوی اپنی بہن کے گھر رہنے لگی۔
نمرہ نے اپنا گھر چھوڑنے اور چوکیدار کو اکیلا چھوڑنے سے صاف انکار کر دیا۔ وہ بمشکل ڈیوٹی دے پا رہا تھا۔ رافعہ سب کے منع کرنے کے باوجود سرونٹ کوارٹر میں رہنے لگی۔
خالہ کا بیٹا اس کو سمجھاتا رہا مگر وہ بولی،
"میں اب مزید نمرہ کے حق پر ڈاکہ نہیں ڈال سکتی۔"
خالہ کے بیٹے نے ماں کو صاف کہہ دیا کہ وہ شادی کرے گا تو رافعہ سے ورنہ کسی سے نہیں۔
خالہ اپنے باپ کے گھر جانے لگی تو بہن نے روتے ہوئے کہا،
"مجھے تمہاری مورل سپورٹ کی ضرورت ہے۔"
خالہ بہن کو تسلیاں دیتی۔
امان نے رافعہ سے جزباتی انداز میں کہا،
"بیٹی تم اس دل میں بستی ہو۔ تم چاہے جدھر بھی رہو۔ میری جان بیٹی ہی رہو گی اور ڈیڈ کے گلے لگو"
مگر رافعہ بولی،
"نہیں ڈیڈ میں اب آپ کے لیے نامحرم ہوں۔"
امان نے تڑپ کر کہا،
"بیٹی ایسے نہ کہو۔"
امان کی بیوی نے رافعہ کو گلے لگا کر دھاڑیں مار کر رونا شروع کر دیا۔ امان روتے ہوئے رافعہ کے قریب آیا تو رافعہ نے جھٹک کر جا کر سرونٹ کوارٹر میں چلی گئی اور دھمکی دی
"کسی نے میرے ساتھ زبردستی کی تو میں اپنی ماں کے پاس چلی جاؤں گی۔"
سب جانتے تھے کہ وہ بہت صدی ہے جو کہتی ہے وہ کر گزرتی ہے۔
وقت بڑا مرہم ہے شاکر آفس جانے لگا۔
خالہ کے بیٹے سے اب رافعہ بالکل بات نہیں کرتی تھی۔
رافعہ کو خالہ کی بات دل کو لگی تھی کہ وہ نمرہ جیسی بن کر دیکھائے گی۔
امان بیٹی کی حالت دیکھ کر کڑھتا تھا۔ جو نازوں پلی کیسے سرونٹ کوارٹر میں نمرہ کے ساتھ کام کاج سیکھتی اور اب اس کی نمرہ سے بہت دوستی ہو چکی تھی۔
ماں سرونٹ کوارٹر جاتی تو وہ اسے میم کہتی۔ ماں کا دل کٹ جاتا۔ امان کو سر کہتی۔
امان نے نمرہ سے کہا،
"ہمیں کھبی پہلے خیال ہی نہیں آیا کہ سرونٹ کوارٹر میں غریب لوگ کیسے زندگی بسر کر رہے ہیں۔ ہم اےسی کی ٹھنڈی ہوا میں سوتے ہیں اور پاس غریب پنکھا یا پرانا جوکر لگا کر سوتا ہے۔"
امان نے نمرہ سے کہا،
"وہ سرونٹ کوارٹر میں ساری سہولتیں میسر کرنا چاہتا ہے"
مگر رافعہ نے سختی سے منع کر دیا۔ وہ بہت ضدی تھی۔ اسی حالت میں گرمی میں سوتے سوتے اسے عادت ہونے لگی۔ شروع میں تڑپ کر اٹھ جاتی تھی۔ مگر نمرہ اسے بہت حوصلہ دیتی۔
نمرہ سے امان اور اس کی بیوی اپنی بیٹی کی طرح پیار نہ کر سکے اس سے انہیں کوئی خاص انسیت محسوس نہ ہوتی جو رافعہ سے ہوتی تھی۔
نمرہ سی طرح امان کو سر کہتی اور امان کی بیوی کو میم۔
امان نے بیوی سے کہا،
"ہم بھی بغیر اے سی کے سوئیں گے۔"
شروع میں مشکل لگا مگر انہوں نے ہمت نہ ہاری اور امان کی آفر ٹھکرا دی کہ وہ ملازموں کو بڑھا دے گا۔ پوری فوج رکھ دے گا مگر رافعہ نے سختی سے منع کر دیا کہ جیسے چل رہا تھا ویسا ہی چلے گا۔
خالہ سمجھا سمجھا کر تھک گئی کہ اپنے آپ کو اذیت مت دو۔ ان کا جواب ہوتا ہماری گڑیا بیٹی بھی تو سب سہہ رہی ہے۔ خالہ کہتی وہ اب آپ کی بیٹی نہیں رہی چوکیدار کی ہے۔
امان غصے سے تڑپ کر کہتا،
"خبردار کسی نے اسے میری بیٹی نہ کہا تو۔ اس کا برتھ سرٹیفکیٹ میرے نام سے بنا ہے۔"
خالہ کہتی
"ڈی این اے ٹیسٹ کروا لو"
تو امان غصہ دیکھاتا۔ وہ کہتا،
"دنیا جو مرضی کہے، بیٹی مجھے اپنا باپ نہ سمجھے مگر میں اسے ہی اپنی بیٹی مانتا ہوں۔"
امان اس خوف سے ڈی این اے ٹیسٹ نہیں کرواتا تھا کہ کہیں یہ بھرم بھی ٹوٹ گیا کہ وہ اس کی بیٹی نہیں ہے تو وہ ٹوٹ جائے گا مر جائے گا۔
رافعہ اب ماں کے نزدیک بھی زیادہ نہ آتی۔ اس کو میم کہتی۔ خالہ کو میم کہتی۔ ماں کا دل کٹ کر رہ جاتا۔
دونوں میاں بیوی اس کو موم ڈیڈ پکارنے کے لیے ترس گئے تھے۔ وہ ہر وقت اس کی پرانی وڈیوز دیکھتے جن میں وہ ان کو موم ڈیڈ پکارتی وہ سنتے اور روتے۔
رافعہ سب چیزوں سے بے نیاز ہو کر نمرہ سے ہر کام سیکھ رہی تھی کچن میں نوکروں کی طرح کام کرتی۔ اس کو منع بھی نہیں کر سکتے تھے کہ اس نے چوکیدار کی بیوی کے پاس جانے کی دھمکی دی تھی۔ اسے چوکیدار اور اس کی بیوی سے کوئی انسیت محسوس نہ ہوتی۔ بس چوکیدار پر ترس آتا تھا۔ وہ چوکیدار کی بیوی سے ایک بار بھی نہ ملی۔ اس نے ملنے اور فون پر ملنے کی خواہش بھی ظاہر نہ کی۔
وہ کھبی چھپ کر امان کو دیکھ لیتی اور اندر سے دکھی ہو جاتی۔ اس کا جی چاہتا وہ دوڑ کر امان سے لپٹ جائے پر وہ ثابت قدم رہنا چاہتی تھی۔ خالہ نے امان سے کہا تھا فکر نہ کرو یہ چند دن بھی برداشت نہیں کرئے گی اور واپس آ جائے گی۔ یہ لاابالی لڑکی ہے، ثابت قدم نہیں رہ سکتی۔
وہ خالہ کو دیکھانا چاہتی تھی کہ وہ ثابت قدم رہ سکتی ہے۔ والدین روتے ہوئے اس کے ہاتھ کے کھانے کھاتے۔
نمرہ کی وہ بہت مشکور تھی اس کی احسانمند تھی۔ جو اس کی جگہ نہیں لے رہی تھی اور اس کو ہر کام بہت نیک نیتی سے سکھا رہی تھی۔
اچانک شور سنائی دیا۔ نمرہ اور رافعہ شام کی چائے کے برتن دھو رہی تھیں۔
ابرار تایا ہر وقت امان سے معافیاں مانگتا اور روتا رہتا۔ تائی الگ امان اور اس کی بیوی سے رو رو کر معافی مانگتی رہتی۔ رافعہ سے بھی معافی مانگتی۔ اس کو سمجھاتی کہ وہ تمہیں اسی طرح بیٹی کی طرح رکھیں گےتم واپس چلی جاؤ مگر رافعہ نہ مانتی۔
تایا اور تائی ہر وقت عبادت میں مشغول رہتے۔
ابرار پانچ وقت مسجد جاتا اور تہجد بھی دونوں میاں بیوی پڑھتے۔ امان نے ان کے معافی مانگنے کے جواب میں خاموشی اختیار کیے رکھی۔ کسی بات کا جواب نہیں دیتا تھا۔ ابرار اور تائی تڑپ کر کہتے معاف نہیں کرتے تو ہمیں جیل بھجوا دو، سزا دو، ہمیں بتا بھلا لہو مگر ایسے ہم سے منہ نہ موڑو۔
امان کی بیوی رحمدل تھی وہ پھر ان سے تھوڑی بات چیت کر لیتی مگر خالہ ٹوکتی کہ یہ لوگ اس قابل نہیں ہیں ان کو منہ نہ لگایا کرو۔
تائی روتی ہوئی آئی اور بمشکل یہ بتا سکیں کہ ان کے چھوٹے بیٹے اور بہو کا ایکسیڈنٹ ہو گیا ہے اور وہ جگہ پر ہی مر گئے ہیں۔
امان بھی بھتیجے کے لیے تڑپ گیا تھا شاکر کا رو رو کر برا حال تھا۔ ابرار بیٹے کی لاش کے پاس نڈھال سا بیٹھا تڑپ تڑپ کر رو رہا تھا۔
تائی کو نمرہ سنبھال رہی تھی۔ رافعہ کا دل بھی پگھل گیا تھا۔ وہ بھی رو رہی تھی۔
ابرار کو بھائی پر ترس آنے لگا تھا۔ ابرار رو رو کر کہتا،
"میرے جانے کا وقت تھا وہ چلا گیا۔"
جب جنازہ اٹھا تو ابرار غش کھا کر گر گیا۔ تائی بھی بے ہوش ہو گئی۔ اس کو نمرہ اور اور امان کی بیوی ڈاکٹر کے پاس لے گئے۔
ابرار کو امان فوراً ہاسپٹل لے گیا اس کو ڈاکٹرز بتانے لگے کہ ان کو شدید شاک لگا ہے اور ان کی حالت خطرے میں ہے۔
امان بھائی کے لیے تڑپ گیا رونے لگا اور بھائی کے ہاتھوں کو چومنے لگا۔ ابرار نے بڑی مشکل سے الفاظ بولے
"مجھے معاف کر دو تاکہ میں سکون سے مر سکوں۔"
ابرار تڑپ کر روتے ہوئے بولا،
"میں نے آپ کو معاف کیا"
تو ایکدم ابرار کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے اور وہ جان کی بازی ہار گیا۔
امان اس کی لاش کے قریب بیٹھا بہت رو رہا تھا
شاکر کی بری حالت تھی جو ابھی بمشکل بھائی کو دفنا کر آیا تھا اب باپ بھی چلا گیا۔
تائی غم سے نڈھال شوہر کے ہاتھوں کو پکڑ کر کہتی، بیٹا بھی چھوڑ گیا تم تو مجھے چھوڑ کر نہ جاؤ۔
ابرار کے جانے کے بعد تائی اکیلی رہ گئی تھی۔
امان نے اسے کہا،
"میں نے آپ کو معاف کیا"
تائی دکھ سے بولی،
"اوپر والے نے ہمیں سزا دے دی ہے۔"
تائی اپنے گھر کو چھوڑ کر آنا نہیں چاہ رہی تھی مگر امان نے شاکر اور اس کی والدہ کو دو کمرے دے دیے۔ اور اس گھر کو تالا لگا دیا کہ تائی کی یادیں اس گھر سے جڑی ہیں اور وہ روتی ہے۔
شاکر کو نمرہ نے بہت حوصلہ دیا تو وہ کافی حد تک سنبھل گیا۔ اب تائی کو ترس کھا کر خالہ بھی دلجوئی کرنے لگی اور امان کی بیوی بھی اس کی خدمت کرنے لگی۔
نمرہ اس کا بہت خیال رکھتی۔ رافعہ نے بھی اب اس کو لفٹ دینی شروع کر دی تھی۔ وہ جب بھی کچھ دینے پاس آتی تو تائی اسے گلے لگا کر چومنے لگ جاتی اور کہتی "بےشک تم سے میری نیت اچھی نہ تھی مگر نہ جانے کیسے تم سے دلی لگاؤ بھی ہو گیا تھا اور تم مجھے سعودیہ بھی بہت یاد آتی تھی۔"
رافعہ کے منہ سے گلہ نکل ہی گیا کہ آپ شاکر کے لیے باہر لڑکی دیکھ رہی تھیں۔ تائی نے جواب دیا
"ہم امان کے اور احسان تلے نہیں دبنا چاہتے تھے وہ ہمارا گھر بھر دیتا اور ہم راہ ہدایت پر آ گئے تھے۔ اور تم جن آسائشوں کی عادی تھی وہ سب ہم نہیں دے سکتے تھے۔"
رافعہ نے آگے بڑھ کر ان کو جلدی سے گلے لگایا اور پھر جلدی سے چھوڑ بھی دیا اور تیزی سے چل پڑی۔ تائی خوش ہو گئی کہ چلو اس نے گلہ تو کیا اور شاید مجھے معاف بھی کر دیا۔ امان اور اس کی بیوی دور سے تائی کو رشک سے دیکھنے لگے جن کو رافعہ نے چاہے دو سیکنڈ کے لیے ہی سہی گلے تو لگایا۔
رافعہ سب کچھ سیکھ چکی تھی۔ سہنا بھی سیکھ چکی تھی۔ خالہ اس سے اب نرم رویے سے بات کرتی تھیں۔ وہ اور زیادہ ادھر رہنے لگی تھیں اور قریب گھر بھی خرید لیا تھا کہ جب بھی وہ پاکستان آیا کریں گی ادھر رہیں گی۔
ان کے شوہر اب ان کو واپس بلا رہے تھے کہ جلدی سے شادی کر کے بچوں کی واپس آؤ۔ وہ شادی پر آئے گا۔ خالہ نے رافعہ سے کہا، جو چائے کا کپ کے کر تھک کر ابھی بیٹھی تھی
"بیٹی میں تمہاری شادی اپنے بیٹے سے کرنا چاہتی ہوں۔"
رافعہ نے طنزیہ کہا،
"میم میں ایک چوکیدار کی بیٹی ہوں۔ آپ کو بڑے امیر کبیر گھر سے رشتہ مل سکتا ہے پھر آپ کی بھانجی نمرہ بھی تو ہے پھر میں ہی کیوں۔"
خالہ نے روتے ہوئے کہا،
"نمرہ اور شاکر کی شادی ہو گی اور تم میری بہو بنو گی۔ میں جانتی تھی کہ تم بہت ضدی بھی ہو اور لاابالی بھی گھر داری سیکھنا نہیں چاہتی جو ہر لڑکی کی ضرورت ہے ہر وقت ملازموں کے رحم وکرم پر نہیں رہا جاتا اور باہر ملک میں سب کام خود کرنے پڑتے ہیں۔ میرے بچے بھی خود کرتے ہیں۔ اس بہانے تم ضد اور غیرت میں گھر داری بھی سیکھ جاؤں گی اور برا رویہ بھی برداشت کرنا۔ میں نے جان بوجھ کر ایسا کیا تھا۔ مجھے فرق نہیں پڑتا تم چوکیدار کی بیٹی ہو۔ مجھے تم سے بچپن سے لگاؤ ہے؛ میرے بیٹے کی تم پسند ہو۔ تم سے بہتر ہماری کوئی اور بہو نہیں ہو سکتی۔ تم جازب سے کتنا پیار کرتی ہو۔ وہ ابھی بھی تمہارے بھائی جیسا ہے۔ وہ چھپ چھپ کے روتا ہے۔ تمہارے والدین اور جازب بغیر اے سی کے سوتے ہیں۔"
رافعہ نے حیرت سے دیکھا اور تڑپ گئی۔
"تم پلیز سب بھول کر واپس آ جاؤ، ہماری بہو بن جاؤ۔"
رافعہ بولی
میں نمرہ کی جگہ نہیں لے سکتی۔"
یہ کہہ کر وہ نکل گئی۔
کمرے میں آ کر رونے لگی۔ نمرہ نے اسے بہت سمجھایا کہ سب تم سے بہت پیار کرتے ہیں۔ میں مر کر بھی ان کے دل میں جگہ نہیں بنا سکتی۔ پہلی بار رافعہ کو یہ سنکر اچھا لگا کہ سب اس سے کتنا پیار کرتے ہیں۔ اتنا تو وہ نمرہ سے بھی نہیں کرتے۔ میں ویسے ہی نمرہ سے جلتی رہی۔
تائی نے جب اسے سمجھایا کہ تم شادی کے لیے ہاں کر دو۔ ورنہ میں سمجھوں گی تم نے ہمیں معاف نہیں کیا۔ وہ بولی،
ایک شرط ہے میں چوکیدار کی بیٹی کی حیثیت سے ہی شادی کروں گی۔ صرف سسرال کے رشتوں سے تعلق ہو گا۔ باقی سب میرے لیے میم اور سر ہی رہیں گے۔"
تائی نے ایکدم کہا،
"ٹھیک ہے شکر ہے وہ مانی تو سہی۔"
سب گھر والے خوش ہو گئے۔ رافعہ نے صاف کہہ دیا
"وہ سر سے ایک ٹکے کا جہیز نہیں لے گی۔ زبردستی کی گئی تو میں انکار کر دوں گی۔ میرے باپ چوکیدار کی حیثیت نہیں ہے۔ اس لیے میں صرف تین کپڑوں میں ادھر سے رخصت ہوں گی۔"
سب کو اس کی ہر شرط ماننی پڑی۔
رافعہ اب سرونٹ کوارٹر میں رہنے لگی، کیونکہ نمرہ نے اسے کہا
"اب تم دولہن ہو اور کوئی کام نہیں کرو گی۔"
وہ بھی اب شاید تھک چکی تھی دل دکھی ہو گیا تھا کہ اس کے والدین اور بھائی جازب اس کی خاطر گرمی میں پنکھے میں سوتے ہیں۔ وہ اب پانچ وقت نمازیں پڑھتی۔ دل کو عبادت سے سکون ملتا۔ گھر میں ڈھولکی رکھ دی گئی تھی اور اس نے اپنے کمرے میں آنے اور کسی سے ملنے اور کسی فنکشن میں نہ شامل ہونے کا سختی سے کہہ دیا تھا۔ نمرہ اسے کمرے میں کھانا پینا دے جاتی۔
رافعہ جائے نماز پر بیٹھی روتے ہوئے دعا کرنے لگی کہ اے میرے مالک کیا سب کچھ پہلے جیسا نہیں ہو سکتا کیا۔ تو چاہے تو ناممکن کو ممکن بنا سکتا ہے۔ مجھے اپنے ہی والدین واپس چاہیے۔ ان کی دعاؤں کے سائے میں رخصت ہونا چاہتی ہوں۔ اپنے موم ڈیڈ سے گلے مل کر اتنے عرصے کی جدائی ختم کرنا چاہتی ہوں اب مجھ میں اور سکت نہیں ہے سہنے کی تو اس کی ہمت سے بڑھ کر اس کو درد نہیں دیتا۔
وہ سوچنے لگی اس نے کیا کیا خواب دیکھے تھے شادی کے۔ سہیلیوں کے ساتھ ڈانس پریکٹس کرئے گی اپنی شادی پر خود ناچے گی۔ ڈیڈ کو بھی نچائے گی موم بھی ناچیں گی۔
مگر دل سے آہ اٹھی کاش یہ سب جو ہوا وہ نہ ہوتا۔ اسے چوکیدار کی بیوی کو ماں کہنے کا دل نہ کرتا جس نے لالچ کیا تھا اور اسے اس زندگی کا عادی بنا کر ہمیشہ کا روگ دے دیا تھا۔
نمرہ اسے روز فون کر کے حال احوال پوچھتی تھی وہ اسے ہی ماں کا درجہ دیتی تھی۔
نمرہ سے چوکیدار کی بیوی نے کہا
"بس ایک بار مجھے امان صاحب اور ان کی بیگم سے ملاقات کروا دے، میں ان سے معافی مانگنا چاہتی ہوں۔"
پہلے تو کوئی مان نہیں رہا تھا مگر نمرہ کے کہنے پر سب مان گئے اور بولے
"وہ سب کے سامنے یہ باتیں کر ے گی کہ اس نے کیسے کیا اور کیوں کیا اور کس کے کہنے ہے کیا۔"
تائی نے بھی کہا
"میرے سامنے اسے بلاؤ۔ میں نے اس کے دل میں لالچ بھرا تھا۔ میں اس سے معافی مانگنا چاہتی ہوں اس سے اولاد کو دور رکھا آج اپنا بیٹا جدا ہو گیا۔"
چوکیدار کی بیوی سب کی موجودگی میں جب آئی تو چوکیدار اس پر دھاڑنے لگا تو سب نے اسے چپ کرایا۔ جازب نے کہا
"میرا دل کرتا ہے اس کا خون کر دوں۔"
مگر نمرہ نے کہا،
"پلیز وہ میری ماں ہیں اور میں ان کی بے عزتی برداشت نہیں کر سکتی۔"
رافعہ نے بھی سب کو منع کیا۔ تو وہ تائی کی طرف دیکھ کر بولی،
"میری جاننے والی نے جب مجھے یہ آفر دی کہ تمہیں پیسے بھی ملیں گے۔ میاں کو چوکیدار کی نوکری بھی ملے گی اور سرونٹ کوارٹر مل جائے گا۔ جہاں تمہیں نہ کوئی بل دینا پڑے گا اور کھانا پینا بھی فری ہو گا اور بچی بدلنے سے بچی تمہاری نظروں کے سامنے ہی رہے گی اور شہزادیوں کی طرح پلے گی اور اچھی جگہ شادی ہو جائے گی۔ تم مالک کی بیٹی کو پالتی رہنا کھبی یہ راز نہیں کھلے گا تم بے فکر رہو۔ بھائی ابرار اپنے بڑے بھائی کی ترقی سے جلتا ہے اور اس کی بیوی بھی جلتی ہے کہ چھوٹا بھائی باپ کی نظروں میں اہم ہے اور اس کی بیوی بھی بڑے گھر سے ہے تو سسر کے نزدیک اس کی زیادہ اہمیت ہے۔ اس لیے وہ ان سے انتقام لے کر اپنے دل کی آگ کو بجھانا چاہتے ہیں۔"
جازب پھر غصے میں آنے لگا تو باپ نے ڈانٹ کر کہا،
"خاموش رہو۔"
تائی شرمندہ ہو رہی تھی اور آنسو بہا رہی تھی۔ شاکر ماں کے قریب بیٹھا ماں کو تسلی دے رہا تھا نمرہ پانی پلا رہی تھی۔
پھر چوکیدار کی بیوی نے کہا،
"میں نے سارے فائدے اٹھا لیے، سرونٹ کوارٹر بھی مل گیا۔ میاں کو نوکری بھی مل گئی۔ جس کی ہمیں سخت ضرورت تھی۔ میں نے شوہر کو اس سارے معاملے کی خبر نہیں ہونے دی۔ ورنہ یہ بہت غیرت والے ہیں کھبی نہ مانتے۔ میں خود بھی بہت غیرت والی تھی مگر غربت بہت بری چیز ہے۔ میں نے سوچا اگر میں نہ مانی تو یہ لوگ کسی اور کو ڈھونڈ لیں گے میرا شوہر پھر بےروزگار ہو جائے گا۔ جس جگہ کام لگا تھا وہ لوگ وہاں سے شفٹ ہو گئے تھے۔ ہمارے گھر میں فاقے تھے، میرا بچہ ہونے والا تھا۔ میں اس آفر کو مان گئی۔ جازب مٹھیاں بیچھنے لگا اور امان نے غصے سے اسے دیکھا۔ رافعہ بھی رونے لگی۔
چوکیدار کی بیوی نے کہا،
"جب میں نے دیکھا میری بیٹی لنگڑی پیدا ہوئی ہے اور یہ لوگ اسے قبول نہیں کریں گے تو ساتھ میں نے پہلے ہی سوچ لیا تھا آفر دینے والی میری دوست تھی۔ تم اپنی بیٹی اگر نہیں دینا چاہتی تو اسے پاس ہی رکھنا میں جھوٹ بول دوں گی کہ ان کی بیٹی تمہاری بیٹی ہے تو پھر جب میں نے تائی کو بتایا کہ ان کی بیٹی لنگڑی ہے لیکن میں پھر بھی اسے پالوں گی تو وہ میری مشکور ہو گئی اور شوہر بھی اس لیے خوش ہوا کہ بھائی کی بیٹی لنگڑی پیدا ہوئی ہے۔
میں اپنی ہی بیٹی کو پالتی رہی اور وہ اپنی ہی بیٹی کو پالتے رہے اور اس بات سے خوش ہوتے رہے کہ ان کی بھتیجی غربت میں پل رہی ہے۔"
رافعہ دوڑ کر باپ کے گلے لگنے لگی تو امان نے اسے ہاتھ سے روک کر کہا،
"ٹھہرو بیٹی اب تمہارا ڈی این اے ٹیسٹ کو گا۔"
تائی بے ہوش ہو چکی تھی اسے شاکر ہاسپٹل لے گیا اور امان رافعہ کو ٹیسٹ کروانے لے گیا۔
تائی راستے ہی میں دم توڑ چکی تھی۔
رافعہ کا ٹیسٹ ہو چکا تھا۔ رپورٹ اگلے دن آنی تھی مگر تائی کی وجہ سے سب مصروف ہو گئے اور رافعہ تائی کے مرنے پر بلک بلک کر روئی۔
شاکر کی حالت دیدنی تھی۔ نمرہ اسے سنبھال رہی تھی ۔ وہ روتے ہوئے کہہ رہا تھا "میرے والدین کے گناہوں کی سزا مجھے ملی ہے۔"
امان اسے سنبھال رہا تھا اور تسلی دے رہا تھا۔
چالیسواں ہوا تو سارے خاندان کو اس سٹوری کا پتا چل چکا تھا اور سب شاکر کی بھی بہت تعریف کرتے تھے اور اسے تسلی دیتے تھے کہ چلو کچھ بگڑا نہیں۔
امان نے رپورٹ لانے کا کہا، جازب رپوٹ لینے گیا سب خاندان رپورٹ کے ملنے کا انتظار کر رہے تھے۔
رافعہ سب سے دور جان بوجھ کر بیٹھی تھی کہ اگر رپورٹ میں وہ چوکیدار کی بیٹی نکلی تو وہ سہہ نہ پائے گی اور جیتے جی مرجائے گی۔
جازب رپوٹ لایا اور منہ بنا کر بولا،
"رافعہ افسوس تم میری بہن نہیں ہو"
رافعہ نے چیخ ماری تو پریشانی سے جلدی سے بولا،
"میں مزاق کر رہا تھا تم میری سگی بہن ہو۔ امان کی بیٹی ہو اب ہم اپنی بہن کو اپنے سے جدا نہیں ہوں گے۔"
رافعہ زرا سنبھلی۔ امان بازو پھیلائے آیا تو اس نے کہا،
"سر رکیں مجھے پہلے رپورٹ پڑھنے دیں"
اور رپورٹ پڑھتے ہی چیختے ہوئے باپ کے گلے لگ کر دھاڑیں مار مار کر رونے لگی سب اس کے گرد جمع ہو گئے۔ جازب پیچھے سے اسے چمٹا ہوا تھا ماں بھی چمٹی ہوئی تھی۔
اتنا حسین ملاپ دیکھ کر سب مبارکباد دینے لگے۔ ہر طرف خوشیاں تھیں۔
رافعہ چوکیدار کی بیوی کے پاس آئی اور اس کو گلے لگا کر بولی،
"ماں تمہارا بہت شکریہ کہ تم نے بچی نہیں بدلی۔"
وہ روتے ہوئے معافی مانگتے ہوئے بولی،
"میں نے اپنی دوست سے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ میں اپنی بچی کے بغیر نہیں رہ سکتی۔ ویسے بھی ڈاکٹر نے کہا تھا کہ اب میں اور بچہ پیدا نہیں کر سکتی۔ میں کیوں اپنی بچی کو دوسروں کے رحم وکرم پر چھوڑوں۔ میں اپنے سینے سے کیوں نہ لگا کر پالوں۔ پھر میری دوست اور میں نے یہی پلان کیا تھا کہ بچی اپنی اپنی ہی ہو گی اور ان کو کچھ پتا نہیں چلنے دیں گے۔"
نمرہ چوکیدار کی بیوی کو ماں کہہ کر چومنے لگی۔ چوکیدار نے بھی اسے معاف کر دیا۔
شاکر اور نمرہ کی شادی ہو گئی۔
رافعہ بیاہ کر ملک سے باہر چلی گئی اور جازب بھی باہر شادی کر کے چلا گیا۔
اب نمرہ اور شاکر ہی امان اور مسز امان کے پاس تھے۔
نمرہ نے اپنے امان کے کہنے پر اپنے والدین کو ساتھ والا روم دے دیا ان کو عزت سے رکھا۔ نئے ملازم سرونٹ کوارٹر میں آ گئے۔
چوکیدار اور اس کی بیوی بقایا زندگی عزت کے ساتھ گزارنے لگے۔
امان صاحب چوکیدار کی عزت کرتے شام کو لان میں اس کے ساتھ بیٹھ کر گپ شپ لگاتے چائے پیتے۔
شاکر نے امان کا بزنس سنبھال لیا تھا۔
نمرہ بہت مطمئن اور خوش تھی جب والدین کو اس گھر میں عزت سے رہتے دیکھتی اور اوپر والے کا بہت شکر ادا کرتی۔
The end.
ناول اختتام پذیر ہوا
You've reached the end of this journey. We hope you loved every episode!

Reader Comments
No comments yet. Be the first to share your thoughts!
Log in to leave a comment.