Logo
Langri Larki
11 Episodes
Langri Larki EP 10
Episode 10

پیار کا اظہار

Langri Larki


پیار کا اظہار


رافعہ جو شاکر کو پسند کرتی تھی مگر شاکر کی محبت بھی اس سے چھپی ہوئی نہ تھی۔ وہ بچپن ہی سے نمرہ کی سائیڈ لیتا رہتا تھا اور اس وقت تو نہیں مگر اب رافعہ سے برداشت نہیں ہوتا تھا۔ ایک دن اس نے جل کر شاکر سے کہا

آخر تمہیں اور جازب کو نمرہ میں کیا نظر آتا ہے، جو تم دونوں اس کی طرفداری میں لگے رہتے ہو۔  

شاکر نے بڑے اطمینان سے کہا 

تم خود اپنا اور اس کا موازنہ کرو کہ سب لوگ تمہارے والدین، ہم ساری دنیا اس کے ٹانگ کے نقص کے باوجود کیوں اسے پسند کرتے ہیں اور تمہیں نہیں کرتے۔ تمہیں خود معلوم ہو جائے گا کہ تم میں کیا کمی ہے۔ اگر خود کو سب کی نظروں میں بہترین ثابت کرنا ہے تو اس کی حرکتوں پر نظر رکھو اور ویسا ہی کرنے کی کوشش کرو۔ اس طرح شاید تم کامیاب ہو جاؤ اور اس سے آگے نکل جاؤ۔ 

رافعہ حیران رہ گئی۔ اسے شاکر سے نمرہ کی اتنی تعریف اور اس کی خامیاں اتنے واضع طور پر پیش کرنے کی امید نہ تھی۔


 

ایک دن ایک معزز خاتون امان کے گھر آئی اور امان کے بڑے بھائی ابرار کی بیوی نعیمہ کا پوچھا۔ اس وقت امان کی بیٹی رافعہ کے علاوہ گھر میں کوئی نہ تھا۔ اس نے اس خاتون سے اس کا تعارف پوچھا۔ اس نے بتایا کہ وہ رشتے کروانے والی ہے۔ اسے تجسس ہوا کہ شاکر سے چھوٹا ذاکر تو شادی کر چکا ہے، اب شاکر رہ گیا ہے تو کہیں تائی نعیمہ اس کے لیے رشتہ تو نہیں ڈھونڈ رہی۔ اس نے اس خاتون سے آنے کا مقصد پوچھا تو اس نے کہا

مجھے نعیمہ نے شاکر کے لیے کسی لیڈی ڈاکٹر کا رشتہ دکھانے کو کہا تھا۔ میں اس کی چند تصاویر میں لائی ہوں۔

رافی نے حیران ہو کر اسے دیکھا، وہ اب تک صرف نمرہ کو ہی اپنی رکاوٹ سمجھ رہی تھی۔ اس نے کہا 

لائیے ذرا مجھے بھی دکھائیں وہ تصویریں۔ 

وہ چہک کو بولی

کیوں نہیں تم بھی تو شاکر کی بہن ہو۔ نعیمہ نے مجھے تمہارے کے بارے میں بھی بتایا تھا، تم رافعہ ہونا۔  

اس نے گردن ہلا دی۔ اس خاتون نے اسے تین لڑکیوں کی چند تصویر میں دکھائیں جو خوبصورت نظر آ رہی تھیں۔ 

رافعہ نے پوچھا

" کیا یہ لوگ راضی ہیں"

وہ خاتون بڑے وثوق سے بولی

ہاں ہاں، بالکل بلکہ وہ لوگ شاکر کی خوبیوں کی وجہ سے اسے بیٹی دینا اپنی خوش قسمتی سمجھتے ہیں۔

رافعہ نے مری ہوئی آواز میں کہا

اور یہ لڑکیاں۔ 

وہ خاتون بڑے جوش میں بولی

ارے بیٹا یہ لڑکیاں تو مرتی ہیں ہمارے شاکر پر، نعیمہ کب آئے گی۔ 

رافعہ نے کہا

تائی نعیمہ کو تو سال بھی لگ سکتا ہے۔ تم ان لوگوں کو جواب دے دو۔ تائی نے اپنے خاندان میں ایک لڑکی دیکھ لی ہے۔

وہ خاتون حیرانگی سے بولی

ہائے، نعیمہ نے تو کہا تھا کہ خاندان میں سب جاہل ہیں۔ اس کے بیٹے کے لائق کوئی نہیں۔

رافعہ نے اسے ڈانٹ دیا اور باہر کو اشارہ کر کے کہا

”اب جاؤ یہاں سے تمہیں بتا جو دیا ہے اور دوبارہ ادھر کبھی مت آنا“

وہ خاتون اسے غصے سے دیکھتی ہوئی باہر چل دی۔ رافعہ کو دکھ ہو رہا تھا کہ تائی نعیمہ کی نظر اس پر نہیں پڑی۔ ویسے تو تائی اس سے بہت پیار جتاتی تھی اور اسے فون بھی کرتی رہتی تھی کہ تمہارے لیے گفٹ لیے ہیں، تمہاری بہت یاد آتی ہے، تو یہ سب کیا ہے۔ کیا شاکر کسی اور کا بھی ہو سکتا ہے؟ اس نے تو ویسے ہی نمرہ کو مجرم بنایا ہوا تھا۔ اسے اس وقت سخت غصہ آیا ہوا تھا۔ اتنے میں اسے نمرہ گھر کے اندر آتی ہوئی نظر آئی۔ اسے دیکھتے ہی وہ چلا کر بولی 

 تم نے کیسے اپنے سے چھوٹے کو بھی پھنسا لیا۔ شرم نہیں آئی۔ ارے وہ تو نا سمجھ ہے، چھوٹا ہے مگر تم تو بڑی ہو اور وہ تم سے دو سال چھوٹا ہے۔ میں تو اپنے سے دو دن چھوٹے سے شادی نہ کروں، چاہے کچھ بھی ہو۔ ایک تم ہو کہ غیرت نام کی نہیں ہے۔ تم کیسے اپنے سے اتنے چھوٹے کے ساتھ زندگی گزارو گی۔ اپنے بچوں کے ساتھ اسے بھی پالوگی۔ 

نمرہ دم بخود کھڑی اسے تکے جارہی تھی۔ وہ تو پکا سوچ چکی تھی کہ جازب کے بارے میں قطعی ہاں نہیں کرے گی مگر اب رافعہ کی با تیں اسے بہت تکلیف پہنچا رہی تھیں۔

رافعہ بے اختیار بولتی رہی 

تم نے شاکر اور جازب دونوں کو اپنے جال میں پھنسایا ہوا ہے۔ کم از کم شاکر کو تو بخش دو اسے میرے لیے چھوڑ دو۔

رافعہ اپنے دل کی بات بھی اسی روانی میں اس سے کر گئی۔ اسے شاکر کو کھونے کا بہت غم تھا۔ اس نے کمرے میں جا کر دروازہ بند کر لیا اور اونچی آواز میں میوزک سننے لگی۔ جب بھی وہ غصے میں ہوتی تھی تو ایسا ہی کرتی تھی۔ 

نمرہ نے بہت سوچا کہ اسے اب ان حالات میں کیا کرنا چاہیے پھر فیصلہ کر لیا کہ شاکر کی شادی وہ خود رافعہ سے کروائے گی۔ اس نے سوچ لیا کہ وہ شاکر کو کہہ دے گی کہ وہ جازب سے شادی ایک شرط پر کرے گی کہ وہ رافعہ سے شادی کرے اور اس کی اور جازب کی شادی چار سال بعد ہو گی۔ اس دوران جازب اس سے بالکل رابطہ نہیں رکھے گا صرف اپنی تعلیم مکمل کرے گا اور تعلیم پر ہی دھیان دے گا۔ اس نے سوچا کہ اس کا نصیب تو ویسے بھی کھوٹا ہے۔ رافعہ کو یہ سب سہنے کی عادت نہیں ہے۔ وہ نازوں پلی نازک سی لڑکی ہے۔ اس طرح اسے شاکر مل جائے گا اور چار سال بعد جازب اتنا سمجھدار ضرور ہو جائے گا کہ اس کا پیچھا چھوڑ دے۔ اس وقت تک وہ اسی طرح نوکری کرتی رہے گی۔ یہ سب سوچ کر وہ ذرا سکون میں آگئی۔



رافعہ لان میں گئی تو سامنے شاکر بیٹھا دفتر کا کچھ کام کر رہا تھا۔ اسے کھلی فضا میں بیٹھنا اچھا لگتا تھا۔ شاکر نے رافعہ کو دیکھ کر بھی کوئی خاص دھیان نہیں دیا اور اپنے کام میں مگن رہا۔ رافعہ اسے دیکھ کر کھل سی گئی۔ وہ اس سے باتیں کرنے لگی مگر اس نے دوبارہ نظر اٹھا کر اسے نہ دیکھا اور سر جھکائے اسے جواب دیتا رہا۔ رافعہ نے بہت کوشش کی کہ وہ اس پر دھیان دے مگر وہ اس میں کامیاب نہ ہوئی۔ وہ مایوس ہو کر اٹھ گئی اور اندر آ گئی۔ اس نے کھڑکی میں سے اسے دیکھنا چاہا تو اسے نمرہ شاکر کے پاس جاتی نظر آئی۔ نمرہ ہاتھ میں چائے کے دو کپ اٹھائے، اس کے پاس جا رہی تھی۔ رافعہ نے سوچا واقعی نمرہ کو کیسے دوسروں کا خیال رہتا ہے اور وہ شاکر کو چائے دینے آگئی۔ اس سے شاکر یقیناً  خوش ہو گا۔ شاکر ٹھیک کہتا ہے مجھے نوٹ کرنا چاہیے کہ وہ کیسے دوسروں کا دل جیتی ہے۔ اچانک اس کے دل میں یہ تجسس جاگا کہ وہ آپس میں کیا بات کریں گے۔ یہ سوچتے ہی وہ بھی باہر آ گئی اور ایسی جگہ بیٹھ گئی جہاں ان کو پتہ چلے بغیر، وہ ان کی باتیں آرام سے سن سکتی تھی۔

جوں ہی نمرہ نے میز پر چائے رکھی شاکر نے جھٹ سراٹھایا اور نمرہ کو دیکھ کر مسکرانے لگا۔ وہ بھی ہلکا سا مسکرائی۔ وہ دونوں جب بھی ملتے تھے ایک دوسرے کو دیکھ کر ان کا موڈ بہت خوشگوار ہو جاتا تھا۔ جس کی جھلک ان کے کھلے ہوئے چہرے پر صاف نظر آتی تھی۔ دونوں کی مسکراہٹ اس بات کی گواہی دیتی تھی کہ وہ ایک دوسرے کے لیے بنے ہیں مگر الفاظ کا اظہار نہ تھا۔ 

نمرہ نے نوٹ کر لیا کہ وہ حیرانگی سے چائے کے دونوں کپ کو دیکھ رہا ہے تو خوشگوار موڈ میں بولی 

  آج میں نے سوچا کہ میں چائے تمہارے ساتھ پی لیتی ہوں۔ تم جو روز میری جان کھاتے ہو کہ میں جازب سے شادی کرلوں تو اس کا بھی جواب، دے ہی دوں۔

شاکر کا چہرہ ایک دم اداس ہو گیا۔ وہ اسے جازب کے ساتھ شادی کرنے کے لیے کہتا ضرور تھا مگر اندر کہیں گہرائیوں میں اسے نکال نہیں پایا تھا۔ اس کے دل میں اب بھی اس کو کھونے کا ڈر بسا ہوا تھا۔ نمرہ نے بھی ایک دم سب محسوس کر لیا اور اداس ہو گئی ۔ وہ اس سے اب تو شدید محبت کرنے لگی تھی مگر دل میں اپنی محبت کی قربانی دینے کا فیصلہ بھی کر چکی تھی۔ اس نے انتہائی زخمی نظروں سے شاکر کو دیکھا اور اس کے بازو پر اپنا ہاتھ رکھ دیا۔ شاکر تڑپ گیا اور اسکے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ دیا۔ کچھ لمحوں کے لیے دونوں کھو سے گئے۔ آگے کا سوچ کر نمرہ کی آنکھوں سے آنسوؤں کے دو قطرے ٹپکے۔ شاکر نے تڑپ کر انہیں صاف کیا۔ اس وقت نمرہ کی عجیب حالت تھی، پاگل دل بار بار مچل کر یہی کہہ رہا تھا کہ جب منزل تمہارے سامنے ہے، خوشیاں دستک دے رہی ہیں تو پھر ان سے منہ موڑ رہی ہو۔ 

پھر اچانک امان اور اس کی بیوی سامنے سے گزرے۔ ان کے نمرہ پر بہت احسان تھے، ان ہی کی بیٹی رافعہ ہے جو اس کے بیچ میں سے ہٹنے پر اپنی خوشیوں کی منتظر ہے، جو شاکر کی وجہ سے ہیں اور وہ اس کی راہ دیکھ رہی ہے۔ نمرہ نے فوراً اپنے آپ کو سنبھال لیا اور دل پر پتھر رکھ لیا۔ وہ بولی

شاکر ہم دونوں نہ تو کچی عمر کے بچے ہیں اور نہ ہی ناسمجھ کہ ایک دوسرے کی بات کو سمجھ نہ سکیں۔ میں جاذب سے شادی تب کروں گی جب تم پہلے رافعہ سے شادی کرنے پر تیار ہو جاؤ۔ ہمیں اپنے محسنوں کا دل نہیں دکھانا چاہیے۔ ظاہر ہے رافعہ کا دل ٹوٹے گا تو امان انکل دکھی ہوں گے نا اور میں رافعہ اور انکل امان کو پریشان نہیں دیکھ سکتی۔ میری خوشی کے لیے تمہیں میری بات ماننی ہوگی۔ 

 یہ سن کر رافعہ کو جیسے ایک جھٹکا سا لگا، وہ ان کی باتیں کی طرف اس نیت سے دھیان لگائے بیٹھی تھی کہ نمرہ شاکر کو ورغلاتی ہے یا نہیں مگر یہاں تو معاملہ ہی الٹا تھا۔ وہ تو اس کی خوشیوں کی بھیک مانگ رہی تھی اور شاکر جسے وہ شک کی نظر سے دیکھتی تھی، جازب کے لیے اسے منا رہا تھا۔ اسے پہلی بار دونوں کے خیالات سن کر شرمندگی ہو رہی تھی۔ 

شاکر نے غیر جذباتی انداز میں کہا

جازب کے لیے ہاں کرنے کا شکریہ کہ تم نے میری بات مان لی۔ وہ میرا بھائی ہے، ہے تو  نادان مگر وہ تم سے شادی کرے گا تو ہمیشہ تمہارا بہت خیال رکھے گا، وہ دل کا بہت اچھا ہے۔

نمرہ نے اس کا دیکھا دیکھی اسی ٹون میں کہا

شاکر! رافعہ بھی دل کی بہت اچھی ہے۔ 

رافعہ حیرت کے سمندر میں گر گئی اور سوچنے لگی کہ یہ میں ہوں، یہ میرے بارے میں کہہ رہی ہے۔ اس نے کچھ لمحوں کے لیے اپنی آنکھیں بند کر لیں۔

نمرہ بولتی رہی 

وہ لا کھ غصے والی سہی، اکڑو سہی مگر دل کی بہت نرم ہے۔ میں نے کئی بار اسے ایسا کرتے دیکھا ہے۔ وہ لاکھ کسی نوکر کو ذلیل کرے مگر ان کا کوئی مسئلہ ہو تو فورا مدد کر دیتی ہے۔ اگر کسی کا بچہ بیمار ہو تو اسے ڈانٹ کر پیسے دے کر فورا ڈاکٹر کے پاس بھیج دیتی ہے۔ اگر کوئی ملازم خود بیمار ہو تو اس سے کام نہیں لیتی ۔ ایک نوکر کے بچے کا پڑھنے کا شوق دیکھا تو اسے اسکول میں داخل کروانے میں پوری مدد کی۔ اس کی اپنی پاکٹ منی، وہ اکثر فلاحی کاموں میں لگاتی رہتی ہے۔ اسے خود پتہ نہ چلتا کہ وہ کتنی بڑی نیکی کر رہی ہے۔ اتنی اچھی لڑکی کا دل نہیں ٹوٹنا چاہیے، وہ برداشت نہ کر سکے گی۔ وہ نازوں پلی نازک سی لڑکی ہے، اس کے مقابلے میں میں تو بچپن ہی سے ہو چیز برداشت کرنے کی عادی ہوں۔ مجھے اب غم برداشت کرنا معمولی لگتا ہے، اس لیے تم میری فکر نہ کرو۔ میں تمہیں بھی دل سے بھلانے کی کوشش کروں گی۔

شاکر بے خیالی میں بولا

مگر میں تمہیں کبھی نہیں بھلا سکوں گا۔  

نمرہ جوش میں بولی

ہمیں بھلانا پڑے گا۔ 

پھر دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا اور خود ہی حیران اور شرمندہ ہو گئے۔ دونوں بے خیالی میں اپنے پیار کا اظہار کر چکے تھے۔ انہیں احساس ہی نہ ہوا۔ مگر اب تیر کمان سے نکل چکا تھا۔ دونوں ایک دوسرے سے نظر بھی نہ ملا پا رہے تھے۔ خاموشی کا وقفہ آ گیا تھا۔

رافعہ حیرت کے سمندر میں غوطہ زن تھی۔ اسے پتہ چل گیا تھا کہ دونوں ایک دوسرے کو بہت پیار کرتے ہیں مگر دونوں ہی اپنے پیار کی قربانی دے رہے ہیں۔ وہ سوچ رہی تھی کہ نمرہ اس کی خوشیوں کا کتنا سوچتی ہے جبکہ وہ خود بھی شاکر سے پیار کرتی ہے۔

نمرہ نے بمشکل اپنے جذبات پر قابو پایا۔ شاکر نے بھی اپنے آپ کو سنبھال لیا اور نمرہ سے کہا 

اب کیا فائدہ، اگر یہ بات تم نے جازب سے پہلے کہی ہوتی یا جازب تمہاری زندگی میں نہ آیا ہوتا تو آج میں اپنے آپ کو دنیا کا سب سے خوش قسمت انسان سمجھتا۔

نمرہ آہستہ سے بولی

شاید میں بھی مگر میں اب بھی خوش ہوں۔“

وہ کمزور نہیں پڑنا چاہتی تھی۔ اس نے اپنی بات جاری رکھی

میں نے یہ فیصلہ بہت سوچ سمجھ کر کیا ہے۔ جازب اچھا انسان ہے، وہ ہمیشہ میرا خیال رکھے گا۔ تم میری فکر نہ کرو۔ تم یہ بتاؤ تم رافعہ سے شادی کرو گے نا ورنہ میری طرف سے جازب کے لیے انکار ہے۔ تم جانتے ہو میں بار بار فیصلے کرتی ہوں نہ بدلتی ہوں۔ تم نے مجھے آج اور ابھی اپنا فیصلہ سنانا ہے۔ میں نے کہہ دیا ہے کہ میں جازب کو پسند کرتی ہوں تا کہ تم مطمعین رہو۔

شاکر نے زخمی مسکراہٹ سے دیکھا اور کہا 

قربانی دینا کوئی تم سے سیکھے۔ رہی بات رافعہ کی تو میرے لیے اس کا وقتی جوش ہے۔ میرے اور اس کے خیالات میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ میں جانتا ہوں میں نے بھی اسے کئی بار ملازموں کی مدد کرتے دیکھا ہے، وہ نیک دل ہے مگر جس ماحول میں وہ نازوں سے پلی بڑھی ہے، اس کی خواہشیں طویل ہیں۔ وہ ایسی چیزوں کی دلدادہ ہے مثلاً گھومنا پھرنا، عیش و آرام، شاپنگ، آزادی اسے پسند ہے مگر میں اسے کچھ نہیں دے سکتا۔

رافعہ نے شاکر کی باتیں سنیں تو سوچنے لگی کہ یہ دونوں مجھے کتنا سجھتے ہیں۔ میں نے تو اپنے بارے میں کبھی ایسا سوچا تک نہ تھا۔ 

ادھر شاکر سوچ رہا تھا کہ چلو یہ جازب سے شادی کے لیے مان جائے تو میں رافعہ سے شادی کی مہلت مانگ لوں گا۔ اس دوران اگر رافعہ قائم رہی تو ٹھیک ورنہ اس کی پسند کے مطابق اسے شادی کرنے دوں گا اور خود نمرہ کی یاد میں تمام زندگی گزار دوں گا۔

شاکر نے نمرہ سے کہا 

ٹھیک ہے 

وہ ایک دم خوش ہوکر بولی

"واقعی"

وہ جو دوسروں کی خوشی میں اپنی خوشی تلاش کرتی تھی آج بھی ویسے ہی سوچ رہی تھی۔ اس نے جازب کی تعلیم مکمل ہونے کی شرط بھی بتادی۔

رافعہ بہت متاثر ہوئی، واقعی شاکر صحیح کہتا تھا، وہ سب کا بھلا سوچنے والی ہے، خوشیاں اور پیار بانٹنے والی ہے اور اپنی خوشیاں قربان کرنے والی ہے۔ عرصے بعد رافعہ کے دل میں نمرہ کے لیے پیار امڈ آیا۔

شاکر نے بھی شرط رکھ دی  

مجھے بھی شادی کی کوئی جلدی نہیں ہے، چاہے چار سال گزر جائیں۔ رافعہ اپنی لائف خوب انجوائے کر لے، بعد میں عورت پابند ہو جاتی ہے۔ اسے مجبورا شادی کی ذمہ داریاں اٹھانی پڑتی ہیں۔

  

رافعہ آہستہ سے وہاں سے اٹھ گئی۔ کمرے میں جا کر سوچنے لگی، کیا شاکر اسے مل جائے گا۔ ویسے بھی نمرہ کو جازب مل رہا ہے جس سے اس کی کافی ساری سہیلیاں شادی کے لیے بے چین ہیں، مگر وہ کسی کو لفٹ نہیں کراتا سوائے نمرہ کے۔ چاہے شاکر اسے پیار نہ کرتا ہو مگر وہ اسے پانے کی آس میں خوش ہو گئی اور دل میں نمرہ کی مشکور بھی۔



Continue Reading
Episode 11
اصلی بیٹی

Reader Comments

No comments yet. Be the first to share your thoughts!

Log in to leave a comment.

Related Novels

Selected For You

View More Free Novels

Editor's Choice

Handpicked favorites that you shouldn't miss.

Premium Membership

Unlock the Full Library

One subscription. Every story. Unlimited reading.

PKR 300
30 Days of Unlimited Access
Go Premium Now

Secure payment  ·  Instant access

Full Novel Library
Access every premium & exclusive novel — no episode locked
Unlimited Reading
Read as much as you want, whenever you want, at your pace
Support the Author
Your subscription directly supports Abida Z Shireen's work
New Episodes First
Be the first to read every new episode as soon as it drops
A F S R N
Join thousands of readers already enjoying premium access
Loved by readers
Our Literary World

Experience the Best Urdu Novels Online

Dive into decades of storytelling by Pakistan's most beloved author, now at your fingertips.

50+
Published Novels
30+
Years of Writing
1M+
Readers Worldwide
100%
Authentic Stories
01

The Legacy of Abida Z Shireen

Welcome to the digital sanctuary of Abida Z Shireen, one of Pakistan's most celebrated literary icons. As a premier Urdu storyteller, she has spent decades crafting narratives that capture the soul of our society. This online Urdu reading platform is designed to preserve her vast Urdu literature archive, offering readers a chance to read Urdu novels online that explore the depths of human emotion, culture, and resilience.

Read Her Story
Abida Z Shireen
Author
02

Captivating Novels & Social Sagas

From suspense-filled thrillers to heart-touching social dramas, our collection features the best Urdu novels that have captivated millions in publications like Aanchal Digest. Whether you are looking for new Urdu novels 2024 or timeless classics, Abida's work provides a unique lens into family dynamics and romantic storytelling. Dive into her world and discover why she is considered a top Urdu digest writer by fans globally.

Browse All Novels
Reading Urdu Novels on Tablet and Phone
Novels
03

Soul-Stirring Urdu Poetry Collection

Beyond prose, this platform hosts an extensive Urdu poetry collection. Abida Z Shireen's verses offer a profound look into spiritual and philosophical themes, available in both Urdu and English. As a featured Urdu poet, her work serves as a bridge between traditional rhythms and modern thought. Join our community of literature lovers to explore famous Urdu poems and exclusive literary insights found nowhere else.

Explore Poetry
Elegant Desk with Pens and Books
Poetry