Logo
Langri Larki
11 Episodes
Langri Larki EP 1
Episode 1

باپ کی نصیحت

Langri Larki


 

انتساب

 

یہ ناول میں اس کے نام کرتی ہوں جس نے مجھے نکھارا، میری لکھنے کی صلاحیت کو جلا بخشی اور زندگی کی ہر راہ پر میرا ہمسفر رہا

 

پیش لفظ

دولت کی تقسیم اور خیر و شر انسان کی زندگی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ یہی ہماری زندگی گزارنے کے طریقے کی پہچان ہے۔ جب ہم یہ سوچتے ہیں کہ دنیا میں ہر چیز ہمارے لیے بنی ہے، یہاں تک تو ٹھیک ہے مگر جب اسے پانے کے لیے صحیح اور غلط کی تشریح بھول جاتے ہیں تو ایسی کہانیاں جنم لیتی ہیں ۔

کہانی اس طرح لکھی جائے کہ پڑھنے والا مصنف کا شریک سفر بن جائے تو یہی وہ اصلی فطری اسلوب ہیں جو ایک عام آدمی کو خاص بنا دیتے ہیں۔

میری کوشش ہے کہ آپ کو اچھی تفریح فراہم کرسکوں میری دنیا میں آپ کو خوش آمدید

 

 

عابدہ زی شیریں

abidazshireen.com




 

باپ کی نصیحت

 

ابرار کا غصے سے برا حال تھا اور ایک انتقامی جذبہ اس کے اندر پنپ رہا تھا، جب لوگ اس کے بجائے اس سے چار سال چھوٹے بھائی امان کی تعریف کیے جا رہے تھے کہ کیسے اس نے والدین کی خدمت میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ آج وہ انہیں کی دعاؤں سے اتنی کم عمری میں ہی ترقی کی کئی منازل طے کر چکا تھا۔ آج ان کی ماں کا چالیسواں تھا، باپ دو ماہ پہلے گزرگیا تھا۔ امان ، جو ابرار سے چار سال چھوٹا تھا، کا غم سے برا حال تھا مگر دوسری طرف تمام انتظامات بھی اسی نے کیے تھے۔ سب لوگ اس کے اچھے انتظامات کی بھی تعریف کر رہے تھے۔



ابرار اور امان کے والد کو بیٹیاں بہت پسند تھیں۔ ان دونوں کی پیدائش سے پہلے ان کی بہن پیدا ہوئی تھی مگر چند دن کے بعد ہی فوت ہو گئی۔ خدا نے دے کر لے لی تو ان کے والد کو بیٹی کا بہت غم ہوا۔ پھر ابرار پیدا ہوا تو والد نے کوئی خاص توجہ نہیں دی مگر وہ ماں کا لاڈلا تھا۔ بیٹی کی وفات کے بعد ابرار اپنی ماں کی بھر پور توجہ اور پیار کا مرکز رہا۔ وہ اس کے بے جا لاڈ اُٹھاتی جس سے وہ دن بدن بگڑتا جارہا تھا۔ وہ سست اور کام چور تھا پڑھائی میں بھی دل نہ لگاتا۔ اگر باپ پوچھتا یا سدھارنے کی کوشش کرتا تو ماں آڑے آ جاتی۔ باپ اپنی بیوی کے آگے بے بس تھا۔ اگر سمجھانے کی کوشش کرتا تو وہ بیٹی کو یاد کر کے رونے بیٹھ جاتی۔ اب باپ کو اپنی غلطی کا احساس ہوا کہ وہ بھی بیٹی کے غم میں کافی عرصہ سوگ مناتا رہا تھا اور بیوی بھی جلد اس غم میں سے باہر نہ آسکی تھی۔ ابرار پیدا ہوا تب وہ بہترہو گئی مگر باپ بیٹی کے غم میں کھویا رہا اور ابرار بگڑتا گیا۔ اب وہ پچھتا رہا تھا کہ کسی بھی غم یا خوشی کو اتنا دل سے نہیں لگانا چاہیے۔ جو مل جائے اس پر شکر کرنا چاہیے اور جو چلا جائے اسے خدا کی کوئی مصلحت سمجھ کر بھلا دینا چاہیے۔ پھر چار سال بعد امان پیدا ہوا تو باپ نے اس پر خصوصی توجہ دینی شروع کی تاکہ وہ نہ بگڑتا جائے۔

امان پڑھائی میں بھی تیز تھا اور ذہانت میں بھی۔ وہ ہر کام شوق لگن اور محنت سے کرتا۔ ابرار اسکول نہ جانے کے بیسیوں بہانے بناتا مگر امان روزانہ اسکول جاتا۔ بارش ہو گرمی ہو سردی ہو چھٹی نہ کرتا۔

ابرار نے بمشکل دس کلاسیں پاس کیں اور آگے نہ پڑھنے کی ٹھان لی۔ آوارہ دوستوں کی صحبت میں وقت برباد کر نے لگا۔ ماں اسے کسی بات پہ نہ پوچھتی نہ روکتی ٹوکتی   باپ سرزنش کرتا تو ماں صفائیاں پیش کرتی۔ پھر وہ محلے کی ایک لڑکی، نعیمہ کے پیار میں مبتلا ہو گیا۔ وہ بہت تیز طرارلڑکی تھی اس نے ابرار سے کہا

اگر فورا میرے گھر اپنے گھر والوں کو نہ بھیجا تو وہ میری شادی کسی اور جگہ پکی کر دیں گئے۔

ابرار نے ماں پر رشتے کے لیے زور دینا شروع کر دیا۔ ماں نے میاں سے بات کی تو اس نے کہا

 اس نکمے نکھٹو کوکون رشتہ کون دے گا۔ اس کی بیوی آئے گی، تو  ابھی تو یہ اپنا بوجھ اٹھانے کے قابل نہیں ہے

ابرار بول اٹھا

"آپ مجھے کوئی نوکری دلوادیں۔ میں کروں گا“

باپ نے جب دیکھا کہ یہ اب اپنی بات سے نہیں ہٹے گا تو اس کی ایک بڑے ادارے میں چوکیدار کی نوکری دلوا دی اور ساتھ ہی اس کی مرضی کی شادی کروادی۔

 

ابرار کی بیوی نعیمہ بھابھی بہت تیز  طرار تھی ۔ وہ زبان کی نہایت میٹھی مگر اندر سے زہر تھی۔ اس نے سب سے پہلے اپنے بھائی کو کہہ کر ابرار کو ایک سرکاری نوکری دلوا دی۔ وہ اس سے بہت خوش ہوا۔ شادی کے پہلے ہی سال خدا نے اسے ایک پیارے سے بیٹے سے نوازا۔ نعیمہ نے آتے ہی پہلے خاوند کر اپنے قابو میں کیا تا کہ اس کے پاؤں مضبوط ہوسکیں۔

 

امان کی پڑھائی ختم ہوئی تو وہ ایک پرائیویٹ فرم میں ملازم ہو گیا۔ اچھی کارکردگی دکھانے پر جلد ہی اسے پروموشن مل گیا اور تنخواہ بھی اچھی ہوگئی۔

باپ نے دیکھا کہ امان نہایت رحم دل اور خدا ترس ہے اور اس کی آمدنی بھی اچھی ہے۔ ابرار اور اس کی بیوی اس کو لوٹتے رہتے ہیں کہ وہ ابھی کنوارہ ہے۔ اس نے اس کی شادی کا سوچا۔

 

بھابھی نے اپنی بھانجی سے اس کی شادی کی بہت کوشش کی مگر اس کی دال نہ گلی اور ایک امیر گھرانے میں اس کی شادی کر دی گئی۔ اس کی بیوی بہت بھولی بھالی تھی۔ وہ کسی کام میں دخل نہ دیتی۔ اس کے دو بچے پیدا ہوئے اور پیدا ہو کر فوت ہو گئے۔ اس پر بھابھی کو موقع مل گیا امان کو روغلانے کا۔ وہ اسے اب ہر وقت بیوی سے بدزن کرتی رہتی کہ یہ کسی کام کی نہیں۔ وہ امیر گھرانے سے آئی ہے، اسے کام کاج بھی نہیں آتا۔ وہ لگا تار اس کے کان بھرتی رہتی۔ امان شروع سے بھابھی کی جھوٹی محبت کو سچ سمجھتا تھا۔ شروع میں اس نے ان باتوں پر زیادہ کان نہ دھرے، وہ اپنی بیوی سے بہت پیار کرتا تھا، مگر قطرہ قطرہ دریا بن جاتا ہے۔ وہ اس سے اکھڑا کھڑا رہنے لگا۔

امان کی قسمت جاگی اور اس کا پرائز بانڈ کا سب سے بڑا انعام نکل آیا۔ جب اسے پتہ چلا تو تیزی سے گھر کو لپکا کہ خوشخبری سب کو سنائے۔ گھر کے باہر اسے اپنے والد مل گئے ۔ انہیں دیکھتے ہی بولا

چلیں مٹھائی لینے چلتے ہیں ۔ سب کو ایک بہت بڑی خوشخبری سنانی ہے“

اس کے والد نے اسے ہاتھ کے اشارے سے روکا اور ایک سائیڈ پر لے جا کر کہا

پہلے اپنی خوشخبری مجھے سناؤ

امان نے ساری بات بتائی تو باپ نے نصیحت کی

گھر میں اس بات کا ذکر کسی سے مت کرنا ۔ تم وہ تمام رقم بینک میں ہی رہنے دو۔ بعد میں سوچ سمجھ کر کہیں بہتر جگہ خرچ کرنا۔ گھر والوں یا کسی اور کو اس کی کانوں کان خبر نہ ہونے دینا۔ اس کو ضائع یا خرچ کرنے کے بجائے بزنس میں لگانے کا سوچو

امان نے باپ کی سب باتوں پر عمل کرنے کا تہیہ کر لیا۔

انہی دنوں امان کا ایک پرانا کلاس فیلو اس سے ملنے آیا۔ وہ بہت امیر تھا اور پاکستان سے باہر سیٹل تھا۔ اسے اب یہاں واپس آنا تھا اس نے امان سے گھر بنوانے میں مدد مانگی۔ امان کے مثبت جواب کے بعد وہ اس کے نقشے کی تیاری کرنے لگے پھر اس نے امان سے کہا  

امان تمہاری نظر میں کوئی اچھی جگہ ہے جہاں میں اپنا گھر بنوا سکوں۔ "

امان نے کہا

" میرے گھر کے بالکل سامنے ایک اچھی لوکیشن پر خالی پلاٹ سیل ہو رہا ہے"

امان کے دوست کو پلاٹ اور اس کی لوکیشن پسند آئی اور اس نے وہ فوراً خرید لیا۔ پھر جب اس پر تعمیراتی کام شروع ہو گیا تو وہ جلدی آنے کا کہہ کر واپس چلا گیا۔

امان کا ایسا ہی اپنا گھر بنانے کا ارمان تھا مگر ابھی وہ پیسے گھر پر خرچ نہ کرنا چاہتا تھا اس لیے اس نے اپنے ارمان مار لیے۔ جب سے اس کے گھر میں بھا بھی آئی تھی ۔ گھر میں اس کا دل نہ لگتا تھا، عجیب سی گھٹن محسوس ہوتی ۔ ماں جو بھابھی کی میٹھی باتوں کی وجہ سے اس کی تعریفوں کے پل باندھتی اور اس کی بیوی کو ناپسند کرتی۔ جب سے اس کی شادی ہوئی تھی گھر کی فضانا ساز گار رہنے لگی تھی۔ وہ کس کی سنتا، بیوی بھی کبھی روتے ہوئے اسے گلہ کرتی تو وہ سخت غصہ کرتا۔ وہ رو دھو کر چپ ہو جاتی۔ اسے اس پر پیار بھی آتا مگر انا آڑے آ جاتی اور وہ اس سے اکھڑا ہی رہتا۔

 

 

اس کی بیوی کافی صلح جو تھی، وہ منانے میں پہل کرتی۔ وہ پھر بھی ماننے میں نخرے دکھاتا اور بہت ذیادہ سوری کہلوانے کے بعد مانتا۔ آہستہ آہستہ بیوی نے اسے شکوہ کرنا چھوڑ دیا کہ ایک دم اس کا موڈ بری طرح خراب ہو جاتا اور کئی دن خراب رہتا اور بیوی کو لینے کے دینے پڑ جاتے ۔ پھر وہ اسے طلاق کی دھمکی بھی دیتا رہتا جس سے وہ ڈر کر چُپ ہو جاتی کیونکہ اس کے بچے بھی فوت ہورہے تھے اور اسے یہ بھی ڈر تھا کہ کہیں امان دوسری شادی نہ کرلے۔

حالانکہ امان اپنی بیوی کو صرف ڈرانے کے لیے کہتا۔ وہ خود اس سے بہت محبت کرتا تھا اور اب اسکے بغیر جینے کا تصور بھی نہ کر سکتا تھا۔ باپ اکثر اسے نصیحت کرتا بیٹا بے شک تم خوشحال ہو جاؤ مگر بھائی کی نوکری نہ چھڑوانا ورنہ اسے سستی کی عادت پڑ جائے گی۔ اسے اپنی فیملی کا بوجھ خود اٹھانے دینا۔ اس کی جابجا مدد نہ کرتے رہنا، ہاں اگر وہ واقعی سخت مشکل میں ہو تو ضرور مدد کرنا۔ اگر اس کے بچوں کی تعلیم کا مسئلہ ہو تو بھر پور مدد کرنا تا کہ وہ پڑھ لکھ کر اچھے انسان بن سکیں۔ ہمیشہ مدد بیوی کے ذریعے کروانا، خود نہ کرنا تا کہ وہ اسے بھی اہمیت دیں۔

امان نے احتجاج کیا 

کیوں پاپا بیوی کیوں۔ میرے پیسوں پر میرے گھر والوں کا حق نہیں ہے کیا۔ میں ایسا نہیں کر سکتا 

باپ نے کہا 

بیٹا میں صرف اتنا چاہتا ہوں کہ تم خود ماں کو پیسے دو مگر اتنے جتنے اس کی ضرورت ہے۔ فالتو پیسوں سے وہ اپنے دوسرے بیٹے کی مدد کرتی رہے گی اور انہیں بگاڑ دے گی۔ پیسے دینے ہوں تو اپنی بیوی سے بھابھی کو دلاؤ، بھائی کو نہ دو تا کہ ابرار کی بیوی کو بھی فضول خرچی کی عادت نہ پڑے۔ اس طرح وہ تمہاری بیوی سے بھی بنا کر رکھے گی اور لڑائی نہ ہوگی، ورنہ وہ تم سے صلح میں رہے گی اور تمہاری بیوی کو اہمیت نہ دے گی اور اس سے لڑتی رہے گی۔ ہو سکتا ہے تمہاری بیوی بھی تنگ آکر تمہیں چھوڑ دے کیونکہ وہ امیر والدین کی بیٹی ہے۔ وہ اسے آرام سے پال سکتے ہیں۔  

امان ڈر گیا، اس نے تو کبھی اس پہلو پر سوچا ہی نہیں تھا۔ اگر وہ اسے چھوڑ گئی تو وہ جیتے جی مر جائے گا۔ اس نے باپ کی نصیحت پر حرف بحرف عمل شروع کر دیا۔ اس طرح سے واقعی اس کی بھابھی اب اس کی بیوی سے میٹھی بن کر رہنے لگی۔



Continue Reading
Episode 2
نیا گھر

Reader Comments

No comments yet. Be the first to share your thoughts!

Log in to leave a comment.

Related Novels

Selected For You

View More Free Novels

Editor's Choice

Handpicked favorites that you shouldn't miss.

Premium Membership

Unlock the Full Library

One subscription. Every story. Unlimited reading.

PKR 300
30 Days of Unlimited Access
Go Premium Now

Secure payment  ·  Instant access

Full Novel Library
Access every premium & exclusive novel — no episode locked
Unlimited Reading
Read as much as you want, whenever you want, at your pace
Support the Author
Your subscription directly supports Abida Z Shireen's work
New Episodes First
Be the first to read every new episode as soon as it drops
A F S R N
Join thousands of readers already enjoying premium access
Loved by readers
Our Literary World

Experience the Best Urdu Novels Online

Dive into decades of storytelling by Pakistan's most beloved author, now at your fingertips.

50+
Published Novels
30+
Years of Writing
1M+
Readers Worldwide
100%
Authentic Stories
01

The Legacy of Abida Z Shireen

Welcome to the digital sanctuary of Abida Z Shireen, one of Pakistan's most celebrated literary icons. As a premier Urdu storyteller, she has spent decades crafting narratives that capture the soul of our society. This online Urdu reading platform is designed to preserve her vast Urdu literature archive, offering readers a chance to read Urdu novels online that explore the depths of human emotion, culture, and resilience.

Read Her Story
Abida Z Shireen
Author
02

Captivating Novels & Social Sagas

From suspense-filled thrillers to heart-touching social dramas, our collection features the best Urdu novels that have captivated millions in publications like Aanchal Digest. Whether you are looking for new Urdu novels 2024 or timeless classics, Abida's work provides a unique lens into family dynamics and romantic storytelling. Dive into her world and discover why she is considered a top Urdu digest writer by fans globally.

Browse All Novels
Reading Urdu Novels on Tablet and Phone
Novels
03

Soul-Stirring Urdu Poetry Collection

Beyond prose, this platform hosts an extensive Urdu poetry collection. Abida Z Shireen's verses offer a profound look into spiritual and philosophical themes, available in both Urdu and English. As a featured Urdu poet, her work serves as a bridge between traditional rhythms and modern thought. Join our community of literature lovers to explore famous Urdu poems and exclusive literary insights found nowhere else.

Explore Poetry
Elegant Desk with Pens and Books
Poetry