Meri Masom Kali
Episodes
سب کے جانے کے بعد عروبہ بولی موم میں تھک گئی ہوں سونے جا رہی ہوں۔
نتاشا برتن دھونے بیٹھ گئی۔ ہما نے کہا بھی مگر وہ نہ مانی۔ ساجد سوچنے لگا کہ شاید نتاشا کا یہاں رہنا قدرت کی طرف سے اس گھر کے لیے انعام تھا۔ یہ ہما کو کتنے سکھ دیتی ہے۔ اور اس نے کاش عروبہ کی پرورش ہما کو کرنے دیتا تو آج اس کے رشتے کے لیے ان لوگوں کے آگے نہ زلیل ہونا پڑتا۔ کاش میں نے اس کو نتاشا کے ساتھ پیار کا رشتہ استوار کیا ہوتا تو دنیا کے سامنے بھی عزت رہ جاتی۔ نتاشا تو اس کا بہن کی طرح ساتھ دیتی ہے۔ دونوں اگر اکھٹی ایک جیسی زندگی گزارتیں تو میری بیٹی کو بہن مل جاتی اور وہ خوش رہتی۔ اس نے تو بیٹی کے زہن کو خراب کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ اب تو وہ کسی کو منہ نہیں لگاتی۔ قسمت اسے اتنا ہی گاؤں میں ان لوگوں کے ساتھ رہنے پر مجبور کر رہی ہے۔ اسے فکر تھی کہ شادی کے بعد وہ زیادہ عرصہ ادھر نہ رہ سکے گی پھر کیا ہو گا اسے ابھی سے نتاشا کو خود بھی اہمیت دینی پڑے گی اور اس کو بھی اس کے رشتے کا احساس دلانا پڑے گا وہ سوچ کر رہ گیا۔
اگلے ہفتے نکاح کا فون آ گیا اور ساتھ ہی جلد شادی کا حکم بھی آ گیا۔
نکاح سادگی سے گھر میں ہی ہونا قرار پایا۔
ہما کو اب اکثر پریشانی رہنے لگی کہ اسنے سعد کے پھوپھا کو پہچان لیا تھا اور اب یقیناً وہ جان گیا ہو گا کہ میری ایک ہی بیٹی ہے اور دوسری اس کی ہے اب وہ کیا کرے گی اگر سچ سامنے آ گیا تو وہ سب کو کیا بتاے گی شوہر کو کیسے مطمئن کرے گی اسے سب سے زیادہ فکر ساجد کی تھی۔اسے نیند نہیں آ رہی تھی ساجد سو چکا تھا عروبہ بھی سو چکی تھی۔ وہ اٹھی اور کچن میں پانی پینے آئی تو نتاشا کچن میں چائے بنا رہی تھی بولی کھانا کھانے کا دل نہیں کر رہا تھا چاے کے ساتھ کچھ سنیک بنانے لگی ہوں آپ کے لیے بھی بنا دیتی ہوں آپ نے کھانا کم کھایا تھا ہما سامنے اسٹول پر بیٹھ گئی۔ نتاشا اب بلاجھجک ہر چیز کھاتی پیتی اور رہتی تھی اس کی اس تبدیلی پر عروبہ نے پہلے پہل نشتر چلاے جب اس نے دھیان نہیں دیا تو عروبہ بھی یہ سوچ کر چپ ہو گی کہ شاید بچپن سے بےعزتی کھا کھا کر اب یہ ڈھیٹ ہو گئی ہے۔ باپ نے عروبہ کو سمجھایا کہ تم بھی اب ایسی باتیں بند کر دو مبادا تمہارے سسرال والے نہ سن لیں۔
ہما اور نتاشا چاے وغیرہ لے کر سٹور نما نتاشا کے کمرے میں آ گئیں تو ہما نے کمرے کو دیکھ کر کہا ہاے میری شہزادی باپ کی اتنی بڑی کوٹھی کی مالک ہوتے ہوئے اس سٹور میں تجھے رہنا پڑتا ہے۔ نتاشا بولی ماما آپ کیوں ایسا سوچتی ہیں۔ اپ کی نیکیوں کا صلہ آپ کی بیٹی کو ملا ہے کہ مجھے ایسا رشتہ ملا ہے کہ میں ساری زندگی آپ کی نظروں کے سامنے رہوں گی۔
ہما بولی میں اس رشتے پر بلکل بھی خوش نہیں ہوں میرا جی چاہتا ہے کہ میں اج اس رشتے کو توڑ دوں مجھے تجھے پاس رکھ کر ایسا رشتہ جوڑنے کا لالچ نہیں ہے۔ اچھا رشتہ ہو چاہے سات سمندر پار ہو پھر بھی میں خوش ہوں۔ ماما آپ میرا آہیڈیل ہیں جو اپنی بیٹی سے زیادہ نند کی بیٹی کو اہمیت دی اور اب اسے مجھے امید ہے کہ پاپا سارے جہان کی دولت اس کے جہیز میں دیں گے تو آپ اف نہیں کریں گی۔ پھر نتاشا پچھلی باتیں دھرانے لگی کہ کیسے اسے پہلی بار پتا چلا تھا اور اس کے کیا تاثرات تھے۔ ہما اسے گلے لگا کر پیار کرنے لگی۔
ساجد کی پیاس سے آنکھ کھل گئی تو اس نے دیکھا ہما بیڈ پر موجود نہیں ہے وہ باہر نکلا تو اسے کچن سے ان دونوں کی آوازیں آنے لگیں تو وہ سن کر دنگ رہ گیا کہ نتاشا اس کی بیٹی ہے۔ پھر وہ دبے پاؤں کمرے میں آ گیا اور سر پکڑ کر بیٹھ گیا۔ پھر اس نے اوٹ سے دیکھا وہ دونوں نتاشا کے کمرے میں داخل ہو رہی ہیں تو وہ دبے پاؤں باہر کھڑا ہو کر سننے لگا تو نتاشا پچھلی باتیں دہرا رہی تھی تو اس پر ساری حقیقت آشکار ہو گئ۔ اسے بہت افسوس ہوا کہ اس جیسے حاکمانہ مزاج کے مرد بیوی کو اتنا ڈرا دبا کر رکھتے ہیں کہ وہ ان کے ڈر سے بعض اوقات اتنے غلط فیصلے کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ اس کی اپنی بیٹی اسی کی وجہ سے کہ ایک اسے خوبصورت اولاد چاہیے تھی اس وقت واقعی اس کا دماغ خراب رہتا تھا کہ وہ دھمکی کے ساتھ کچھ کر بیٹھتا یا اسے اپنی بیٹی دنیا میں سب سے حسین لگتی جیسی اسے اب لگ رہی تھی اس کا دل چاہ رہا تھا کہ وہ جاکر اسے سینے سے لگا کر دھاڑیں مار مار کر روے۔ اس نے زور زور سے ہما کو آوازیں دیں تو ہما اور نتاشا دوڑتی آ گی گھبراتے ہوئے بولی کیا ہوا اس نے کہا کہ میرا دل گھبرا رہا ہے نتاشا بھاگ کر پانی لے آئی۔ وہ غٹا غٹ بہت سا پانی پی گیا نتاشا اس کی پاوں کی تلیاں ملنے لگی اسے سکون ملنے لگا وہ بہتر محسوس کرنے لگا۔ اس نے لیٹ کر آنکھیں موند لیں۔ دو مہربان ہستیاں اس کے ساتھ تھیں جنہیں سب سے زیادہ اس نے دکھ پہنچاے تھے وہ پچھتانے لگا۔ اس نے اپنے رب سے توبہ استغفار کی۔ اور سکون سے سو گیا تب نتاشا اپنے کمرے میں ا گئ۔
جس دن نکاح تھا اس نے سادگی کو ترجیح دی اور سعد سے پوچھا کہ میں نتاشا کا بھی ایک کروڑ لکھواوں گا اور عروبہ کا بھی فارمیلٹی کے لیے۔ سعد نے کہا کہ میں نے بسانے کے لیے لے کر جانا ہے بےشک دو کروڑ لکھوا دیں تو نکاح کے وقت نرگس نے احتجاج کیا کہ گھر کی بات ہے مگر سعد اور نرگس کا سسر نہ مانا مجبوراً نرگس کو چپ ہونا پڑا۔ مگر اس کا منہ بن گیا۔
لاہیو وڈیو میں اس کی نند نے بھی لکھوانے پر اوکے کیا۔ ساجد پر ہما اور نتاشا کی باتوں سے حقیقت کھل چکی تھی کہ عروبہ سعد کے پھوپھا کی بیٹی ہے۔ ہما نتاشا سے مشورہ مانگ رہی تھی تو اس نے جواب میں کہا تھا کہ جب تک کوئی اور اوپن نہیں کرتا آپ چپ رہیں۔ جب اوپن ہو گا دیکھا جائے گا۔ اب اسے دشمن کی بیٹی پر روپیہ خرچ کرنا محال لگ رہا تھا۔ اسے نتاشا سے انسیت کم نہ ہو سکی تھی۔ اس نے سعد سے پوچھا جہیز میں کیا لینا ہے تو اس نے کہا کہ گاوں میں سب کمرے ابھی میں نے جدید فرنیچر سے آراستہ کیے ہیں پھر برتن، فرنیچر کچھ بھی دینے کی ضرورت نہیں۔ ساجد نے کہا کہ نقد رقم دے دوں تو سعد بولا انکل میں جہیز کے سخت خلاف ہوں اور نقد رقم بھی جہیز کی ایک صورت ہے اس کا بھی سوال پیدا نہیں ہوتا۔ ساجد نے کہا کہ دنیا کیا کہے گی تو سعد نے کہا کہ ہم پڑھے لکھے دنیا کے ڈر سے اس رسم کو نہیں توڑیں گے تو معاشرہ کیسے سدھرے گا۔ امیر لڑکیوں کے جہیز کے ٹھاٹ باٹھ دیکھ کر احساس محرومی کا شکار ہو جاتی ہیں شاید اسی لئے امیروں کو ان کی بدعاہیں اور آہیں لگتی ہیں جو ان کو بڑی بیماریوں پر دولت خرچ کرنی پڑتی ہیں وہی تھوڑا اپنے بچوں کا صدقہ نکال کر کم رقم سے ہی کسی غریب کی شادی یا کسی اور مسلے میں مدد کر دی جائے تو یہ ان کے اپنے بچوں کی بلاوں کو بھی ٹالتا ہے۔ ان کے بچوں کے بھلے کا سبب بنتا ہے۔ مگر کوئی سمجھے تو تب نہ۔ اگر ایک سو کے اوپر ایک روپیہ الگ کر کے خیرات نکالی جائے تو میرا خیال ہے صدقہ، خیرت، و زکوٰۃ سب کور ہو جائے گا انسان کتنی شاپنگ کرتا ہے کتنی نئ چیزیں سالوں پڑی رہتی ہیں۔ سال بعد ان کی زکوۃ بن جاتی ہے مگر ان چیزوں کی طرف کسی کا دھیان بھی نہیں جاتا۔
ساجد سعد کی باتوں سے امپریس ہوا۔
جاری ہے۔ دعاگو راہٹر عابدہ زی شیریں
پلیز اسے لاہک، شہیر اور کمنٹ نہ کریں۔ جزاک اللہ۔

Reader Comments
Be the first to leave a comment on this episode!
Log in to leave a comment.