Logo
Back to Novel
Gar Na Main Tera Deewana Hota
Episodes
Gar Na Main Tera Deewana Hota

گر نہ میں تیرا دیوانہ ہوتا 7

From Gar Na Main Tera Deewana Hota - Episode 7

شاہ رُخ نے حیرت سے جویریہ کو تڑپ کر جھنجھوڑتے ہوئے پوچھا، کون سا دھوکہ۔

جویریہ آرام سے منہ پھیر کر بولی، تم نے زویا کو پہلے اسے اگنور کر کے محبت جگائی، اور میرے ساتھ منگنی کر کے اس کو محبت کا احساس دلایا، اب بس میں اور کھلونا نہیں بن سکتی۔

شاہ رُخ دکھی انداز میں بولا، میں جانتا ہوں تمہیں اب کچھ انکار کا اور نہیں سوجھ رہا۔ تم جیسی اچھی لڑکی کسی کو دکھی نہیں دیکھ سکتی اس لیے اب اپنی محبت کی قربانی دینا چاہتی ہے وہ بھی ان لوگوں کے لیے جو بے فیض اور مطلبی لوگ ہیں۔ تم سمجھتی ہو کہ تمہارے ایسا کرنے سے میں زویا سے شادی کر لوں گا تو یہ تمہاری بھول ہے۔

تم منگنی توڑو گی تو میں کسی سے بھی شادی نہیں کروں گا۔ بولو کسی نے تمہیں مجبور کیا ہے کیا۔

جویریہ ایکدم مڑی اس کی آنکھیں برس رہی تھیں۔ اس نے جواب دیا، مجھے کسی نے مجبور نہیں کیا ہے۔

محبت خود غرضی کا نام نہیں ہے قربانی کا نام ہے۔ زویا ایک جزباتی لڑکی ہے، وہ تمہیں بچپن سے پیار کرتی ہے۔ وہ دل کی بری نہیں ہے اور نہ ہی کوئی پیدائشی برا ہوتا ہے۔ وہ اور اس کی ماما اب سدھرنا چاہتی ہیں اور اس نیک کام میں ہمیں انکا ساتھ دینا چاہیے۔

زویا نے دوبارہ کچھ کر لیا اور وہ نہ بچ سکی تو ہم اپنے آپ کو کھبی معاف نہیں کریں گے۔ تمہیں ان لوگوں نے پڑھایا لکھایا اب تم ان کے احسان کا بدلہ اتار سکتے ہو۔

تمہیں اگر مجھ سے سچی محبت ہے تو میری بات مان کر میرا مان رکھ لو پلیز،

وہ روتے ہوئے ہاتھ جوڑ کر منتیں کرنے لگی۔

شاہ رُخ نے بےبسی سے کہا، کاش تم میری جان مانگ لیتی مگر اپنے سے دور جانے کی بات نہ کرتی۔ میں تمہیں اس کی اجازت نہیں دے سکتا کہ تم قربانی دے کر ہماری خوشیاں خراب کرو۔

زویا کی محبت وقتی ہے۔ اسے تو پیار کا مفہومِ ہی نہیں پتا۔

جویریہ نے کہا، تمہیں زویا کو اپنانا ہو گا۔ ابا جان کی وہ اکلوتی اولاد ہے۔ اسے سنبھال کر رکھنا ہو گا۔ اس نے کچھ کر لیا تو سب دکھی ہو جائیں گے۔ پلیز مان جاو۔ اس نے اس کے پاوں کو چھونا چاہا تو شاہ رُخ نے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا کہ میں بس ایک زندہ لاش بن کر رہ جاوں گا۔ٹھیک ہے تم خوش ہو جاو۔

یہ کہہ کر وہ تیزی سے چلا گیا۔

اوٹ سے زویا نکلی جو کافی حیران تھی کہ جویریہ نے اس کی خوشی کے لیے اتنی بڑی قربانی دی۔

وہ جویریہ کے قریب آئ اور شکریہ ادا کرنے لگی۔ جویریہ نے روتے ہوئے کہا کہ پلیز اس کی ماں کی دل سے عزت اور خدمت کرنا تو تب ہی تم اسکا دل جیت سکو گی ورنہ اسے پا کر بھی نہ پا سکو گی۔

یہ کہہ کر وہ تیزی سے نکل گئی۔

جویریہ کے جانے کے بعد جب شاہ رُخ نے زویا کے لیے ہاں بول دی تو گھر میں خوشی کی لہر دوڑ گئ۔

زویا اور شاہ رخ کی شادی کی تیاریاں زور وشور سے شروع ہو چکی تھیں۔

شاہ رُخ کسی کام میں دلچسپی نہیں لے رہا تھا اس نے اپنے آپ کو آفس کے کاموں میں مصروف کر لیا تھا۔

زویا کے چچا سب کام دیکھ رہے تھے۔

ابا جان سخت غصے میں شاہ رخ کی ماں پر برس رہے تھے۔

وہ سر جھکائے خاموشی سے آنسو بہا رہی تھی۔

سب شور سنکر جمع ہو چکے تھے۔

شاہ رُخ نے ابا جان کو غصے سے کہا، آپ کس بات پر میری ماں پر اس طرح برس رہے ہیں۔

اتنے میں زویا کے چچا جو واک سے ابھی واپس آئے تھے حیران ہو کر باپ کو چلا کر بولے، ابا جان آپ کیوں اس بے چاری کو اس طرح زلیل کر رہے ہیں۔

ابا جان بیٹے کو ڈانٹتے ہوئے بولے، تمہاری وجہ سے برخوردار تمہاری بیوی کا ابھی کفن بھی میلا نہیں ہوا اور تم اپنی حیثیت بھول کر اس ملازمہ پر ڈورے ڈال رہے تھے صبح میں نے تم دونوں کو اکھٹے کھڑے ہو کر باتیں کرتے ہوئے دیکھا ہے۔

میں نے اپنی اکلوتی پوتی کی ضد سے مجبور ہو کر ایک ہمارے ہی ٹکڑوں پر پلنے والی ملازمہ کے بیٹے کو اس گھر کا داماد بننے کی حامی بھری، ورنہ میری پوتی کے لیے خاندانی امیر کبیر رشتوں کی کمی نہ تھی۔

شاہ رُخ ماں سے گرج کر بولا ماما جلدی سے کچھ بولو ورنہ میرا کلیجہ پھٹ جائے گا میں اب اور برداشت نہیں کر سکتا۔

چوکیدار بھی بھاگتا ہوا آ گیا اور بڑے ابا گرج کر بولے، تم کیوں ہماری باتیں سننے آ گئے جاو دفع ہو جاو یہاں سے۔

چوکیدار اسی طرح گرج کر بولا، میں اس لیے آ گیا کہ میری بیٹی بے قصور ہے۔

اس کے چچا کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا، یہ آپ کا عیاش بیٹا، گاوں میں زبردستی میری بیٹی سے نکاح کر کے چلا گیا میں شہر نوکری پر تھا اس نے اتنا بھی جاننا گوارا نہ کیا کہ اسکا باپ کون ہے۔

میری بیٹی کو طلاق دینے لگا تو میری بیٹی نے منت کی کہ وہ ویسے بھی اب کھبی اور شادی نہیں کرے گی تو اسے طلاق کا داغ مت دو۔

اس کے دوست نے مشورہ دیا یار طلاق نہ دے اکثر گاوں آتے جاتے اس سے ملتے رہنا۔

اس کے بعد اس بزدل کی جرات نہ ہوئی ادھر اسے دیکھ کر اپنی بیوی مانتے ہوئے کسی کو بتانے کی۔ یہ چھپ چھپ کر اسے تنگ کرتا تھا۔ اور اسے یہ بھی نہیں معلوم کہ شاہ رُخ اسکا ہی بیٹا ہے۔

میری بیٹی نے یہ بات سب سے چھپا کر رکھی۔ بیٹے کو بھی نہیں بتایا کہ وہ دکھی نہ ہو۔ اور غربت میں رہ کر اچھا انسان بن سکے۔

ابا جان لڑکھڑاتے ہوئے پیچھے صوفے پر بیٹھ گئے۔

سب حیرت سے دیکھ رہے تھے۔

زویا کے چچا نے تڑپ کر کہا، میں اس سے یہی بات پوچھنا چاہتا تھا کہ شاہ رُخ کون ہے کسی کا لے کر پالا ہے یا اپنا ہے مگر یہ ٹال جاتی تھی۔ ابا جان میں نے سب سے چھپ کر شاہ رخ کی ماں سے زبردستی شادی کی تھی۔ مجھے معاف کر دیں۔

ابا جان خوش ہو کر بولے کیا میرا پوتا بھی ہے۔ میں اتنا عرصہ اس غم میں رہا کہ میرا پوتا کوئی نہیں ہے مگر یہ اتنی بڑی خوشی میری نظروں کے سامنے تھی۔ کاش میں پہلے اس بات کو جان سکتا تو میرا پوتا اس طرح نہ پلتا۔

شاہ رُخ نے ماں کو اٹھایا اور بولا، اب ہم اس گھر میں ایک منٹ نہیں رک سکتے۔

شاہ رُخ ماں اور نانا کو لے کر چل پڑا۔

زویا تڑپ تڑپ کر روتے ہوئے اسے روکنے لگی مگر وہ نہ رکا۔

جاری ہے۔

پلیز اسے لائک ،کمنٹ اور فرینڈز کو بھی شئیر کریں شکریہ۔

شعر۔

جسے دیکھ کر دھڑکنیں رقص کریں

میرے دل کا وہ انتخاب ہو تم

تمہیں دیکھتے ہی دل کھل اٹھے

وہ خوشی و دل کا قرار ہو تم۔

#شاعرہ_عابدہ_زی_شیریں #abidazshireen



Reader Comments

Be the first to leave a comment on this episode!


Log in to leave a comment.

Selected For You

View More Free Novels

Editor's Choice

Handpicked favorites that you shouldn't miss.

Unlock the Full Library

PKR 300

For 30 Days of Unlimited Access

  • Read all premium and exclusive content
  • Enjoy a seamless, uninterrupted reading experience
  • Directly support the author and her work
Go Premium Now

Experience the Best Urdu Novels Online

The Legacy of Abida Z Shireen

Welcome to the digital sanctuary of Abida Z Shireen, one of Pakistan's most celebrated literary icons. As a premier Urdu storyteller, she has spent decades crafting narratives that capture the soul of our society. This online Urdu reading platform is designed to preserve her vast Urdu literature archive, offering readers a chance to read Urdu novels online that explore the depths of human emotion, culture, and resilience.

Captivating Novels and Social Sagas

From suspense-filled thrillers to heart-touching social dramas, our collection features the best Urdu novels that have captivated millions in publications like Aanchal Digest. Whether you are looking for new Urdu novels 2024 or timeless classics, Abida's work provides a unique lens into family dynamics and romantic storytelling. Dive into her world and discover why she is considered a top Urdu digest writer by fans globally.

Reading Urdu Novels on Tablet and Phone

Soul-Stirring Urdu Poetry Collection

Beyond prose, this platform hosts an extensive Urdu poetry collection. Abida Z Shireen’s verses offer a profound look into spiritual and philosophical themes, available in both Urdu and English. As a featured Urdu poet, her work serves as a bridge between traditional rhythms and modern thought. Join our community of literature lovers to explore famous Urdu poems and exclusive literary insights found nowhere else.

Elegant Desk with Pens and Books