Gar Na Main Tera Deewana Hota
Episodes
شاہ رُخ نے حیرت سے جویریہ کو تڑپ کر جھنجھوڑتے ہوئے پوچھا، کون سا دھوکہ۔
جویریہ آرام سے منہ پھیر کر بولی، تم نے زویا کو پہلے اسے اگنور کر کے محبت جگائی، اور میرے ساتھ منگنی کر کے اس کو محبت کا احساس دلایا، اب بس میں اور کھلونا نہیں بن سکتی۔
شاہ رُخ دکھی انداز میں بولا، میں جانتا ہوں تمہیں اب کچھ انکار کا اور نہیں سوجھ رہا۔ تم جیسی اچھی لڑکی کسی کو دکھی نہیں دیکھ سکتی اس لیے اب اپنی محبت کی قربانی دینا چاہتی ہے وہ بھی ان لوگوں کے لیے جو بے فیض اور مطلبی لوگ ہیں۔ تم سمجھتی ہو کہ تمہارے ایسا کرنے سے میں زویا سے شادی کر لوں گا تو یہ تمہاری بھول ہے۔
تم منگنی توڑو گی تو میں کسی سے بھی شادی نہیں کروں گا۔ بولو کسی نے تمہیں مجبور کیا ہے کیا۔
جویریہ ایکدم مڑی اس کی آنکھیں برس رہی تھیں۔ اس نے جواب دیا، مجھے کسی نے مجبور نہیں کیا ہے۔
محبت خود غرضی کا نام نہیں ہے قربانی کا نام ہے۔ زویا ایک جزباتی لڑکی ہے، وہ تمہیں بچپن سے پیار کرتی ہے۔ وہ دل کی بری نہیں ہے اور نہ ہی کوئی پیدائشی برا ہوتا ہے۔ وہ اور اس کی ماما اب سدھرنا چاہتی ہیں اور اس نیک کام میں ہمیں انکا ساتھ دینا چاہیے۔
زویا نے دوبارہ کچھ کر لیا اور وہ نہ بچ سکی تو ہم اپنے آپ کو کھبی معاف نہیں کریں گے۔ تمہیں ان لوگوں نے پڑھایا لکھایا اب تم ان کے احسان کا بدلہ اتار سکتے ہو۔
تمہیں اگر مجھ سے سچی محبت ہے تو میری بات مان کر میرا مان رکھ لو پلیز،
وہ روتے ہوئے ہاتھ جوڑ کر منتیں کرنے لگی۔
شاہ رُخ نے بےبسی سے کہا، کاش تم میری جان مانگ لیتی مگر اپنے سے دور جانے کی بات نہ کرتی۔ میں تمہیں اس کی اجازت نہیں دے سکتا کہ تم قربانی دے کر ہماری خوشیاں خراب کرو۔
زویا کی محبت وقتی ہے۔ اسے تو پیار کا مفہومِ ہی نہیں پتا۔
جویریہ نے کہا، تمہیں زویا کو اپنانا ہو گا۔ ابا جان کی وہ اکلوتی اولاد ہے۔ اسے سنبھال کر رکھنا ہو گا۔ اس نے کچھ کر لیا تو سب دکھی ہو جائیں گے۔ پلیز مان جاو۔ اس نے اس کے پاوں کو چھونا چاہا تو شاہ رُخ نے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا کہ میں بس ایک زندہ لاش بن کر رہ جاوں گا۔ٹھیک ہے تم خوش ہو جاو۔
یہ کہہ کر وہ تیزی سے چلا گیا۔
اوٹ سے زویا نکلی جو کافی حیران تھی کہ جویریہ نے اس کی خوشی کے لیے اتنی بڑی قربانی دی۔
وہ جویریہ کے قریب آئ اور شکریہ ادا کرنے لگی۔ جویریہ نے روتے ہوئے کہا کہ پلیز اس کی ماں کی دل سے عزت اور خدمت کرنا تو تب ہی تم اسکا دل جیت سکو گی ورنہ اسے پا کر بھی نہ پا سکو گی۔
یہ کہہ کر وہ تیزی سے نکل گئی۔
جویریہ کے جانے کے بعد جب شاہ رُخ نے زویا کے لیے ہاں بول دی تو گھر میں خوشی کی لہر دوڑ گئ۔
زویا اور شاہ رخ کی شادی کی تیاریاں زور وشور سے شروع ہو چکی تھیں۔
شاہ رُخ کسی کام میں دلچسپی نہیں لے رہا تھا اس نے اپنے آپ کو آفس کے کاموں میں مصروف کر لیا تھا۔
زویا کے چچا سب کام دیکھ رہے تھے۔
ابا جان سخت غصے میں شاہ رخ کی ماں پر برس رہے تھے۔
وہ سر جھکائے خاموشی سے آنسو بہا رہی تھی۔
سب شور سنکر جمع ہو چکے تھے۔
شاہ رُخ نے ابا جان کو غصے سے کہا، آپ کس بات پر میری ماں پر اس طرح برس رہے ہیں۔
اتنے میں زویا کے چچا جو واک سے ابھی واپس آئے تھے حیران ہو کر باپ کو چلا کر بولے، ابا جان آپ کیوں اس بے چاری کو اس طرح زلیل کر رہے ہیں۔
ابا جان بیٹے کو ڈانٹتے ہوئے بولے، تمہاری وجہ سے برخوردار تمہاری بیوی کا ابھی کفن بھی میلا نہیں ہوا اور تم اپنی حیثیت بھول کر اس ملازمہ پر ڈورے ڈال رہے تھے صبح میں نے تم دونوں کو اکھٹے کھڑے ہو کر باتیں کرتے ہوئے دیکھا ہے۔
میں نے اپنی اکلوتی پوتی کی ضد سے مجبور ہو کر ایک ہمارے ہی ٹکڑوں پر پلنے والی ملازمہ کے بیٹے کو اس گھر کا داماد بننے کی حامی بھری، ورنہ میری پوتی کے لیے خاندانی امیر کبیر رشتوں کی کمی نہ تھی۔
شاہ رُخ ماں سے گرج کر بولا ماما جلدی سے کچھ بولو ورنہ میرا کلیجہ پھٹ جائے گا میں اب اور برداشت نہیں کر سکتا۔
چوکیدار بھی بھاگتا ہوا آ گیا اور بڑے ابا گرج کر بولے، تم کیوں ہماری باتیں سننے آ گئے جاو دفع ہو جاو یہاں سے۔
چوکیدار اسی طرح گرج کر بولا، میں اس لیے آ گیا کہ میری بیٹی بے قصور ہے۔
اس کے چچا کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا، یہ آپ کا عیاش بیٹا، گاوں میں زبردستی میری بیٹی سے نکاح کر کے چلا گیا میں شہر نوکری پر تھا اس نے اتنا بھی جاننا گوارا نہ کیا کہ اسکا باپ کون ہے۔
میری بیٹی کو طلاق دینے لگا تو میری بیٹی نے منت کی کہ وہ ویسے بھی اب کھبی اور شادی نہیں کرے گی تو اسے طلاق کا داغ مت دو۔
اس کے دوست نے مشورہ دیا یار طلاق نہ دے اکثر گاوں آتے جاتے اس سے ملتے رہنا۔
اس کے بعد اس بزدل کی جرات نہ ہوئی ادھر اسے دیکھ کر اپنی بیوی مانتے ہوئے کسی کو بتانے کی۔ یہ چھپ چھپ کر اسے تنگ کرتا تھا۔ اور اسے یہ بھی نہیں معلوم کہ شاہ رُخ اسکا ہی بیٹا ہے۔
میری بیٹی نے یہ بات سب سے چھپا کر رکھی۔ بیٹے کو بھی نہیں بتایا کہ وہ دکھی نہ ہو۔ اور غربت میں رہ کر اچھا انسان بن سکے۔
ابا جان لڑکھڑاتے ہوئے پیچھے صوفے پر بیٹھ گئے۔
سب حیرت سے دیکھ رہے تھے۔
زویا کے چچا نے تڑپ کر کہا، میں اس سے یہی بات پوچھنا چاہتا تھا کہ شاہ رُخ کون ہے کسی کا لے کر پالا ہے یا اپنا ہے مگر یہ ٹال جاتی تھی۔ ابا جان میں نے سب سے چھپ کر شاہ رخ کی ماں سے زبردستی شادی کی تھی۔ مجھے معاف کر دیں۔
ابا جان خوش ہو کر بولے کیا میرا پوتا بھی ہے۔ میں اتنا عرصہ اس غم میں رہا کہ میرا پوتا کوئی نہیں ہے مگر یہ اتنی بڑی خوشی میری نظروں کے سامنے تھی۔ کاش میں پہلے اس بات کو جان سکتا تو میرا پوتا اس طرح نہ پلتا۔
شاہ رُخ نے ماں کو اٹھایا اور بولا، اب ہم اس گھر میں ایک منٹ نہیں رک سکتے۔
شاہ رُخ ماں اور نانا کو لے کر چل پڑا۔
زویا تڑپ تڑپ کر روتے ہوئے اسے روکنے لگی مگر وہ نہ رکا۔
جاری ہے۔
پلیز اسے لائک ،کمنٹ اور فرینڈز کو بھی شئیر کریں شکریہ۔
شعر۔
جسے دیکھ کر دھڑکنیں رقص کریں
میرے دل کا وہ انتخاب ہو تم
تمہیں دیکھتے ہی دل کھل اٹھے
وہ خوشی و دل کا قرار ہو تم۔
#شاعرہ_عابدہ_زی_شیریں #abidazshireen

Reader Comments
Be the first to leave a comment on this episode!
Log in to leave a comment.